ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مختلف سڑک منصوبوں سے متعلق آئینی درخواست؛ حکام اور وکلا پر مشتمل وفد مشترکہ طور پر سائٹ کا دورہ کرے؛عدالت کا حکم

 مختلف سڑک منصوبوں سے متعلق آئینی درخواست؛ حکام اور وکلا پر مشتمل وفد مشترکہ طور پر سائٹ کا دورہ کرے؛عدالت کا حکم
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

عیسیٰ ترین : بلوچستان ہائی کورٹ میں مختلف سڑک منصوبوں سے متعلق آئینی درخواست کی سماعت ہوئی ۔ چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل بینچ نے کیس سنا۔

میر علی خیل روڈ منصوبے میں تبدیلی سے لاگت میں تقریباً 2.5 ارب روپے اضافے کا انکشاف ہوا۔  عدالت نے ریمارکس میں کہا  منصوبوں میں مزید تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔عدالت نے تکنیکی و مالی مسائل کے باعث فی الحال حتمی حکم جاری کرنے سے گریز کیا۔

سپیرا راغہ روڈ منصوبے کی پیش رفت پر عدالت میں متضاد بیانات سامنے آگئے۔

ایس ڈی او نے بتایا کہ  منصوبے پر 95 فیصد ارتھ ورک مکمل کرلیا  جبکہ وکیل حمید اللہ ناصر نے کہا  سائٹ پر کوئی نمایاں پیش رفت نظر نہیں آئی۔عدالت کی ہدایت پر حکام اور وکلا پر مشتمل وفد مشترکہ طور پر سائٹ کا دورہ کرے گا۔

وفد 26 مارچ تک دورہ اور 28 مارچ تک تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائے گا۔بلوچستان ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت 30 مارچ 2026 تک ملتوی کر دی۔

عدالت نے حکم نامے کی نقل متعلقہ حکام کو ارسال کرنے کی ہدایت جاری کر دی ۔