ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

خاتون اور ا سکی فیملی کو سی سی ڈی کی جانب سے حراساں کرنے کا کیس نمٹا دیاگیا

خاتون اور ا سکی فیملی کو سی سی ڈی کی جانب سے حراساں کرنے کا کیس نمٹا دیاگیا
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں سی سی ڈی کی جانب سے ایک خاتون اور اس کے اہل خانہ کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی جسے عدالت نے سی سی ڈی افسران کی یقین دہانی کے بعد نمٹا دیا۔ 

جسٹس سردار اکبر علی ڈوگر نے سائلہ غلام فاطمہ کی درخواست پر سماعت کی۔ آر او سی سی ڈی لاہور آفتاب پھلروان اور ایس پی سی سی ڈی ناصر عباس پنجوتا شامل تھے۔ اس موقع پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل فلک شیر بخش گل نے سی سی ڈی افسران کی جانب سے رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ پنجاب حکومت کے لاء افسر نے عدالت کو بتایا کہ ایک شادی کی تقریب کے دوران ہونے والے دو افراد کے قتل کے مقدمے میں چار افراد اشتہاری ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ درخواست گزار خاتون کے کون سے رشتہ دار اس مقدمے میں ملوث ہیں۔ اس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ خاتون کا نواسا، دو برادر نسبتی اور ایک بیٹا مقدمے میں نامزد ہیں اور ان پر دو افراد کے قتل کا الزام ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس مقدمے کی تفتیش کے نام پر خاتون اور اس کی فیملی کو مسلسل ہراساں کر رہی ہے اور پولیس اہلکار گھر تک جا کر اہل خانہ کو تنگ کرتے ہیں۔ ڈی او  ، سی سی ڈی منڈی بہاوالدین نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار اور اس کے خاندان کو ہراساں نہیں کیا گیا بلکہ صرف ملزمان کی گرفتاری کی کوشش کی گئی ہے۔ ڈی او منڈی بہاؤالدین نے عدالت کو مزید بتایا کہ درخواست گزار کا بیٹا فیصل شہزاد بھی مقدمے میں ملوث ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے کوششیں کی گئی ہیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ملزم ملک سے باہر ہے۔

اس پر ڈی او منڈی بہاؤالدین نے کہا کہ وہ وثوق سے نہیں کہہ سکتے ، اس کی ٹریول ہسٹری موجود  نہیں ہے۔ اس جواب پر عدالت نے اظہار ناراضگی  کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ایک ذمہ دار افسر کی جانب سے اس طرح کا غیر واضح جواب مناسب نہیں۔جسٹس سردار اکبر علی ڈوگر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پرانا طریقہ کار رہا ہے کہ ملزم کو تلاش کرنے کے لیے اس کے گھر والوں کو تنگ کیا جاتا ہے، تاہم قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔
بعد ازاں عدالت نے سی سی ڈی افسران کی جانب سے یقین دہانی اور انڈرٹیکنگ ریکارڈ پر لیتے ہوئے کیس نمٹا دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ درخواست گزار اور اس کی فیملی کو غیر قانونی طور پر ہراساں نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ کسی قسم کا غیر قانونی اقدام سامنے آیا تو ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

Ansa Awais

Content Writer