ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سپریم کورٹ: 10 ارب ہرجانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی کی نظرثانی درخواست منظور

سپریم کورٹ: 10 ارب ہرجانہ کیس میں بانی پی ٹی آئی کی نظرثانی درخواست منظور
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(امانت گشکوری) سپریم کورٹ آف پاکستان نےبانی پی ٹی آئی کیخلاف 10 ارب روپے ہرجانے کے کیس میں نظرثانی درخواست کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی نظرثانی درخواست منظور کر لی ہے۔

سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کا حق دفاع ختم کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،لاہور ہائیکورٹ اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار  دیدیا ہے۔جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس اشتیاق ابراہیم نے حق دفاع بحال کرنے کا اکثریتی فیصلہ دیا ،جسٹس ہاشم کاکڑ نے اختلاف کرتے ہوئے اختلافی نوٹ جاری کیا، سپریم کورٹ نے 29 دسمبر 2022 کا سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کا اکثریتی فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

سپریم کورٹ نے ہتک عزت کا مقدمہ واپس ٹرائل کورٹ کو ریمانڈ کر دیا۔ سپریم کورٹ نےٹرائل کورٹ کو بانی پی ٹی آئی کو سوالات کے جواب دینے کا مناسب موقع فراہم کرنے کی ہدایت کر دی ہے اور کہا ہےکہ ٹرائل کورٹ جوابات داخل ہونے کے بعد کیس کی کاروائی قانون کے مطابق آگے بڑھائے۔

  سپریم کورٹ کی جانب سے نظرثانی کی درخواست پر تحریری فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف نے بانی پی ٹی آئی کیخلاف 10 ارب روپے کا ہتک عزت کا دعوی دائر کر رکھا ہے،ٹرائل کورٹ نے سوالات کے جواب نہ دینے پر بانی پی ٹی آئی کا حق دفاع ختم کیا تھا، بانی پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے کیخلاف نظرثانی اپیلیں دائر کی تھیں، بانی پی ٹی آئی کے وکیل کے مطابق 2022 میں ریلی میں گولی لگنے سے بانی پی ٹی آئی شدید زخمی اور ہسپتال میں داخل تھے،وکیل کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا جواب داخل نہ کرنا جان بوجھ کر نہیں بلکہ حادثے کی وجہ سے تھا، وکیل کے مطابق حق دفاع ختم کرنے کیلئے مخالف فریق کی باقاعدہ تحریری درخواست لازمی ہے جو ریکارڈ پر نہیں تھی۔

سپریم کورٹ کے فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف کے وکیل کے مطابق بانی پی ٹی آئی 2017 سے کیس میں تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں،شہباز شریف کے وکیل کے مطابق ٹرائل کورٹ کو عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی پر ازخود کاروائی کا پورا اختیار ہے، آرڈر 11 رول 21 سول کیس میں مدعا علیہ کیلئے موت کا پروانہ ہے،قانون کسی انسان کو ایسے کام پر مجبور نہیں کرتا جو جسمانی طور پر ناممکن ہو۔

اکثریتی فیصلہ میں کہا گیا ہےکہ گولی لگنے اور ہسپتال داخلے کے بعد جان بوجھ کر نافرمانی کا عنصر ختم ہو جاتا ہے،ٹرائل کورٹ کے پاس سخت سزا کے بجائے بھاری جرمانے عائد کرنے کے متبادل راستے موجود تھے۔

فیصلے میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے اختلافی نوٹ لکھا، جس میں انہوں نے تحریر کیا کہ یہ کیس عدالتوں کی بے بسی اور درخواست گزار کی جانب سے غیر معمولی تاخیر کی عمدہ مثال ہے، یہ مقدمہ 2017 میں دائر ہوا جبکہ درخواست گزار نے تحریری جواب جمع کرانے میں ہی تقریباً 4 سال کی تاخیر کی،16 مارچ 2022 کو سوالات دیئے گئے لیکن 5 سے 6 مواقع ملنے کے باوجود درخواست گزار جواب دینے میں ناکام رہا، عدالتی آرڈر شیٹ کے مطابق 26 اپریل 2022 کو ہی سوالات کے جوابات کا ڈرافٹ تیار تھا اور صرف سینئر وکیل کے دستخط باقی تھے،عدالتی احکامات کی تعمیل کے بجائے اگلی تاریخ پر کاروائی کو طول دینے کیلئے دوبارہ اعتراضات دائر کیے گئے،درخواست گزار کا ایسا طرز عمل واضح طور پر جان بوجھ کر عدالتی احکامات کی نافرمانی پر مبنی تھا،نظرثانی کا دائرہ اختیار انتہائی محدود ہے،سابقہ اکثریتی فیصلے میں کوئی واضح غلطی موجود نہیں، حق دفاع بحال کرنے کی نظرثانی درخواست خارج کی جاتی ہے۔