ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسرائیل میں نیتن یاہو کی حکومت کو آج رات سخت چیلنج درپیش

اسرائیل میں نیتن یاہو کی حکومت کو آج رات سخت چیلنج درپیش
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: تل ابیب میں اسرائیل کی پارلیمنٹ /کنیست میں آج کنیست کو وقت سے پہلے  پارلیمنٹ تحلیل کر کے نئے الیکشن میں جانے کے لئے اپوزیشن کے بل پر آج ووٹنگ ہوگی۔  

پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کے بل پر آج پہلی ووٹنگ ہوگی، اس ووٹنگ میں بل کو اکثریت حاصل ہوئی تو اسے نافذ ہونے کے لیے مزید 3 مرتبہ ووٹنگ کے مرحلے سے گزرنا ہوگا جس کے بعد کنیست کی تحلیل اور قبل از وقت انتخابات کی تاریخ طے ہوسکے گی۔

آج شب اسرائیل کی اپوزیشن پارلیمنٹ  توڑنے کے بل پر اکثریت دکھانے میں ناکام رہی تو اسے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے سے متعلق دوسرا بل پیش کرنے کے لیے کم از کم 6 ماہ انتظار کرنا پڑے گا۔


پرائم منسٹر نیتن یاہو ایک اتحادی حکومت کو مشکل سے چلا رہے ہیں۔ اب سورتحال اس قدر پیچیدہ ہو گئی ہے کہ نیتن یاہو کے بعض اتحادیوں نے بھی قبل از وقت انتخابات کے لیے اپوزیشن کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔

کنیست میں نیتن یاہو کے  اتحاد  مین شامل پارٹیوں کی  68 نشستیں ہیں جبکہ اقتدار میں رہنے کے لیے کم از کم 61 نشستوں کی ضرورت ہے۔ 

 نیتن یاہو نے اپنے اتحادیوں پر اپوزیشن  کی حمایت سے باز رہنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔ قدامت پسند یہودیوں کے فوج میں لازمی سروس کے قانون کی منظوری کے بعد حکومتی اتحاد میں شامل کچھ جماعتیں نتین یاہو سے نالاں ہیں لیکن ان کی ناراضی نئے الیکشن کے لئے ہاں کرنے تک شاید نہیں جائے گی۔ 

 لیکود پارٹی نے 2022 میں دیگر 6 جماعتوں  کے ساتھ مل کر حکومت قائم کی تھی۔

آج کی تحریک پر ووٹنگ میں اپوزیشن کامیاب ہو نہ ہو لیکن نیتن یاہو کی حکومت کے خاتمے کا قوی امکان بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ نہ وہ اپنی حماس کے خلاف جنگ میں مقاصد حاصل کر سکے، نہ اب تک حماس کے دہشتگردوں کی قید میں پھنسے ہوئے باقی  24 اسرائیلیوں کو واپس لا سکے اور نہ ہی ملک کے داخلی مسائل کے حل کے لئے کوئی ٹھوس پیش رفت کر سکے۔

جوں جوں نیتن یاہو کی حکومت کو عوام مین عدم مقبولیت کا سامنا کرنا پڑا توں توں وہ اپنی پالیسیوں میں زیادہ انتہا پسند ہوتے گئے۔ آج کل کئی ہفتوں سے وہ دو ریاستوں کے طے شدہ حل کے خلاف مہم چلا رہے ہیں، اس  مہم کو انتہا پسندی کی طرف مائل یہودی بنیاد پرست سیاسی گروہوں کی تو حمیات حاصل ہو جاتی ہے لیکن میں سٹریم سیاسی پارٹیاں  اس کو ایک شعبدہ بازی تصور کرتے ہوئے اصل مسائل پر ہی بحث کر رہی ہیں۔

Caption پرائم منسٹر  بنجمن نیتن یاہو نے اسرائیل کی انٹیلیجنس ایجنسی شیہہ بہخ کے سربراہ رونن بار کو اپنے تئیں برطرف کر دیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے اس برطرفی کو منسوخ کر دیا۔ رونن بار اب تک اپنے عہدے پر موجود ہیں اور 16 جون کو از خود سبکدوش ہونا چاہتے ہیں۔  

 وزیراعظم  نیتن یاہو گزشتہ کئی سال سے بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں لیکن عدالتوں میں ان کے مقدمات پر فیصلہ تک پہنچنے کی نوبت اب تک نہیں آئی۔ اس دوران قطر گیت سکینڈل نے ان کی حکومت کو بنیادوں سے ہلا کر رکھ دیا ہے۔   7 اکتوبر 2023 کو حماس کا حملہ روکنے میں ناکامی پر بھی عوام اور سیاسی جماعتیں موجودہ حکومت کی ناکام پالیسیوں کپر سخت تنقید کر رہے ہیں۔

Caption عملا حکومت کے اثر سے آزادی اٹارنی جنرل گالی بہارو میارا مسلسل پرائم منسٹر نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں کی قانون سے متصادم حرکتوں کی مزاحمت کرتی رہی ہیں۔ نیتن یاہو نے انہیں برطرف کرنے کی  مہم چلائی لیکن عملاً پیش رفت نہیں کر سکے۔  مس میارا عدلیہ کو حکومت کے  زیر اثر لانے کی کوششوں کی سخت ناقد ہیں اور قطر گیٹ سکینڈل میں انتیلیجنس ادارہ کی تحقیقات کو آگے بڑھانے کے لئے رونن بار کی برطرفی رکوانے میں  بھی ان کا اہم کردار رہا ہے۔

نیتن یاہو پر اداروں کے ساتھ بے سبب تنازعات کھڑے کرنے، انٹیلی جنس ادارہ شہہ بیخ کے سربراہ کو ذاتی وفاداری پر مجبور کرنے، اٹارنی جنرل کو  قانون کی بجائے اپنے مفادات کے تحفظ پر مجبور کرنے اور سپریم کورٹ کو ربر سٹیمپ کورٹ میں بدلنے کی کوششوں کے بھی سنگین الزامات ہیں۔ ان تمام  کاموں مین نیتن یاہو کی مخالفت کو ان کی بیگم سارہ نیتن یاہو نے حال ہی میں اپنے ایک انٹرویو میں "ڈیپ سٹیٹ نیتن یاہو کے خلاف ہے" کا رنگ دیا۔