سٹی42: اڈیالہ جیل میں کرپشن کیس میں طویل قید کی سزا کاٹ رہے، پی ٹی آئی کے بانی، سابق وزیراعظم کی رہائی کے متعلق ان کی بہن نے اہم بیان دے دیا۔
گزشتہ کئی ہفتوں تک پی ٹی آئی کی قیادت یہ بتاتی رہی کہ وہ اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں، ان کے اسٹیبلشمنٹ سے رابطے ہیں لیکن اب بانی کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ ہمیں عمران خان کی رہائی نظر نہیں آرہی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا کے بعض نمائندوں سےباتیں کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ بانی "تحریک " چلانا چاہتے ہیں، وہ "تحریک" کی تیاری سے مطمئن ہیں، ہمیں پتہ ہے بانی پی ٹی آئی نے کیا کہا ہوا ہے اور پارٹی رہنماؤں نے کیا کہا ہوا ہے، اب"تحریک" کو روک نہیں سکتے۔
اب علیمہ خان کا شمار بھی پی ٹی آئی کے لیڈروں میں ہونے لگا ہے، انہوں نے "تحریک" کے مقصد کے متعلق کچھ نہیں بتایا تاہم پہلے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ پی ٹی آئی اپنے بانی کو رہا کروانے کے لئے نئے سرے سے پاکستان بھر میں احتجاجی مظاہرے کرنا چاہتی ہے۔ ماضی میں ایسی ہر کوشش ناکام رہی کیونکہ پنجاب، سندھ، بلوچستان، کشمیر میں اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا تاہم پشاور سے سرکاری وسائل کے ساتھ اسلام آباد پر پانچ حملے کئے گئے جن میں کئی سرکاری اہلکار شہید ہوئے اور پی ٹی آئی کے سینکڑوں کارکن گرفتار ہو کر مقدمے بھگتتے رہے۔
آج اسلام آباد ہائی کورٹ کے کھلے دروازے کے باہر کھڑے ہو کر علیمہ خان نے دعوی کیا کہ ہم پر تمام دروازے بند کردیئےگئے ہیں۔ علیمہ خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے ڈرامائی انداز سے کہا، " جج صاحب مجبور ہیں"، "ہمیں سمجھ آرہی ہے"، "ان پر بہت پریشرہے"، "ہم ججز کویکجہتی دکھا رہےہیں لیکن یہ بھی ان کوکافی نہیں پڑ رہی۔ "
علیمہ خان نے اپنے بھائی کی جیل میں موجودگی کے تمام حقائق کو فراموش کرتے ہوئے کہا، "انہوں نے عمران خان کو کئی مہینوں تک قید میں ہی رکھناہے"، "ہمیں بانی پی ٹی آئی کی رہائی آگے نظر نہیں آرہی ہے"، "اب پی ٹی آئی قیادت کی طرف دیکھیں گےکس طرح بانی پی ٹی آئی کورہاکروایاجائےگا۔ "
190 ملین پاؤنڈز کیس میں عمران خان کو 14 سال قید، 10 لاکھ روپے جرمانہ
17 جنوری 2025 کو جمعہ کے دن اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈز کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کو 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی تھی۔
عدالت نے اسی مقدمے میں عمران خان کی بیوی بشریٰ کو بھی سات برس قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی اور نام نہاد فلاحی ادارہ القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم دیا۔
یہ فیصلہ احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے 18 دسمبر 2024 کو محفوظ کیا تھا جو 17 جنوری کو سنایا گیا۔
جب جج کی طرف سے فیصلہ سنایا گیا تو عمران خان، بشریٰ بی بی اور تحریک انصاف کی قیادت کمرۂ عدالت میں موجود تھی۔
عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاونڈز یا القادر ٹرسٹ کیس اس 450 کینال سے زیادہ زمین کے عوض ایک پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کو اس کی انگلینڈ میں ضبط کی گئی 190 ملین پاؤنڈ رقم واپس کرنے کے لئے مجرمانہ سازش کے ساتھ وزیر اعظم کے اختیارات کا غیر قانونی اور غیر اخلاقی ستعمال کرنے سے متعلق ہے۔
ملک ریاض کو پاکستان کی سپریم کورٹ کے ایک سابق چیف جسٹس نے اس کے خلاف بنے بہت سے سنگین مقدمات ختم کرنے کے لئے "سودا" کر کے سینکڑوں ارب روپے جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔ ملک ریاض نے یہ جرمانہ کبھی ادا نہین کیا تھا۔ جب عمران خان وزیر اعظم بنے تو انگلینڈ میں ملک ریاض کی 190 ملین پاؤنڈ رقم کو مشکوک ذرائع کی کمائی قرار دے کر انگلینڈ کی ریاست نے ضبط کر لیا تھا اور قانون کے مطابق یہ رقم اس کے اصل اوریجن پاکستان واپس بھیجنے کے لئے پاکستان کی حکومت سے رابطہ کیا تھا۔
وزیراعظم کی حیثیت سے عمران خان نے یہ رقم سرکاری خزانہ مین لانے کی بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں بھجوا دی، اس رقم کو مبینہ طور پر سابق چیف جسٹس نے ملک ریاض کے جرمانہ کی ادائیگی کے لئے "ایڈجسٹ" کرنا تھا لیکن اس سے پہلے ہی اس گرے ٹرانزیکشن Grey Transaction کا سکینڈل بن گیا۔ بعد میں مقدمہ بنا تو عمران خان کے وزیراعظم کی حیثیت سے ان کی کابینہ کے کئی وزرا نے بھی ان کے خلاف شہادت دی۔ اس کیس کے مرکزی ملزم ملک ریاض اور بشری کی قریبی دوست شریک ملزمہ سمیت باقی تمام ملزم مفرور ہیں۔