ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

صرف پاسنگ مارکس حاصل کرنا امیدوار کو انٹرویو کا قانونی حق نہیں دیتا، بڑا فیصلہ

صرف پاسنگ مارکس حاصل کرنا امیدوار کو انٹرویو کا قانونی حق نہیں دیتا، بڑا فیصلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف: لاہور ہائی کورٹ نے پی ایم ایس منسٹریل کوٹہ کے تحت انٹرویو کے لیے امیدواروں کی شارٹ لسٹنگ کے خلاف دائر 22 درخواستیں مسترد کرتے ہوئے پنجاب پبلک سروس کمیشن ( پی پی ایس سی) کے طریقۂ کار کو قانونی قرار دے دیا۔

جسٹس ملک محمد اویس خالد نے محمد نعیم اور دیگر درخواست گزاروں کی درخواستوں پر 14 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے۔ فیصلے میں قرار دیا گیا کہ صرف پاسنگ مارکس حاصل کرنا کسی امیدوار کو انٹرویو کے لیے بلائے جانے کا قانونی حق نہیں دیتا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پی پی ایس سی کی جانب سے ہر ایک نشست کے لیے پانچ امیدواروں کو انٹرویو کے لیے شارٹ لسٹ کرنے کا فارمولا قانون اور قواعد کے مطابق ہے. فیصلے میں مزید کہا گیا کہ امیدوار اشتہار میں درج شرائط سے اتفاق کرتے ہوئے امتحان میں شریک ہوئے تھے، اس لیے امتحان کے نتائج آنے کے بعد انتخابی طریقہ کار یا شارٹ لسٹنگ کے معیار کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ امتحان میں کامیابی حاصل نہ ہونے کے بعد بھرتی کے معیار پر اعتراض اٹھانا اصولِ رضا مندی (Doctrine of Acquiescence) کے منافی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ بھرتی کے قواعد وضع کرنا، شارٹ لسٹنگ کا طریقہ کار اختیار کرنا اور متعلقہ پالیسی مرتب کرنا پی پی ایس سی کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔

عدالت نے پی ایم ایس منسٹریل کوٹہ کی 21 نشستوں پر جاری انٹرویو کے عمل کو روکنے کی درخواست بھی مسترد کرتے ہوئے تمام درخواستیں خارج کر دیں۔