(ویب ڈیسک) جہلم کا سب سے بڑا قبرستان کسی مسلمان نے نہیں وقف کیا تھا۔ لیکن وقف کرنے والے کی زندگی کا خاتمہ مسلمان ہونے پر ہوا تھا۔ محسنٍ اسلام محسنٍ جہلم ٹنڈل رام پرشاد بہت ہی کم افراد نے یہ نام سُنا ہوگا۔یہ واقعہ ہے 1933کا۔۔۔جناب ٹنڈل رام پرشاد نواب آف دکن جسکی تقریبا” پونے دو مربہ زمین جہلم میں موجود تھی اور انکی زیادہ تر اراضی دکن بھارت میں موجود تھی ۔انکی ایک رہائش جو کہ اس زمانے میں بہت عالیشان رہائش گاہ باغ محلہ نزد صرافہ بازارجہلم میں برلبٍ دریائےجہلم تھی ،یہ عمارت ابھی بھی واقع ھے ۔
فیس بک پر ڈاکٹر تجمل حسین اعوان کی شئیر کردہ تحریر ’’ بڑے کرم کے ہیں یہ فیصلے‘‘ کو ضرور پڑھیں ۔آپکے دل کو سکون اور راحت پہنچے گی ، اللہ، بادشاہی کا مالک! جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہے ذلت۔ نواب آف دکن ٹنڈم رام پرشاد ایک انتہائی رحم دل اور درویش صفت انسان تھا ۔گو کہ یہ شخص انتہاٸی امیر کبیر اور نواب خاندان کا اکلوتا وارث تھا جو کہ سونے کا چمچ لیکر پیدا ھوا تھا ۔اہل جہلم میں صرف چند افراد ھی جانتے ھونگے ۔نواب آف دکن اکثر اوقات اپنی اراضی دیکھنے دکن سے جہلم تشریف لاتے اور ان دنوں بھی وہ جہلم ڈھوک عبداللہ کے نزدیک اپنی زمینوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے کہ کچھ لوگ ایک بوڑھی عورت کا جنازہ لے کر انکے پاس سے گزرے ۔نواب آف دکن سمجھے کہ شاید یہ کوئی بیمار آدمی ھے اور اسے کسی حکیم کے پاس لے کر جا رھے ھیں ۔تھوڑی دیر گزری تھی کہ وہی باغ محلے کے افراد اسی طرح جنازہ لیکر واپس آ گئے، نواب ٹنڈل رام پرشاد بھی اسی راستہ پر کھڑے اپنی سواری کا انتظار کر رھے تھے ازراہ ہمدردی انہوں نے ان افراد میں سے کسی سے پُوچھا کہ اب اس مریض کا کیا حال ھے ۔ مرحومہ کے ایک بچے نے رو رو کے ساری داستان سنائی کے انکے دو تین جاننے والوں نے اپنی زمین میں اسکی والدہ کی قبر بنانے سے صاف انکار کر دیا ھے اور اب ھم اس عورت کی قبر اپنے گھر بنانے کے سوا کوئی چارہ نہ ھے ۔نواب صاحب یہ سن کر بہت رنجیدہ ھوئے اور بیشک اللہ کی رضا و مرضی کے بغیر نہ کوئی نیکی کر سکتا ھے اور نہ ھی برائی۔چنانچہ اللہ پاک نے ٹنڈل رام پرشاد کے دل میں اس مرحومہ کے لئے رحم ڈالا اور نواب صاحب نے مرحومہ کے بچوں کو پاس بلایا اور یکدم حیرت انگیز پیشکش کر دی کہ اگر آپکے مسلمان بھائیوں نے میت دفنانے سے انکار کیا ھے تو ۔آپ پریشان نہ ہوں یہ زمین یہ جائیداد ادھر ہی رہ جانی ھے البتہ ھم سب انسانوں نے جلد یا بدیر دنیاسے چلے جانا ھے آپ لوگ میری اس زمین پر جس جگہ چاہتے ہیں اپنی والدہ کو دفن کر دیں۔اور آج سے میں اپنی یہ پونے دو مربع زمین مسلمانوں کے قبرستان کیلئےوقف کرتا ھوں۔یہ بات سنتے ہی سب مسلمانوں کی آنکھوں میں تشکر سے آنسو آ گئے اور مرحومہ کو دفنانے کے بعد فاتحہ خوانی کی گئی اور ٹنڈل رام پرشاد کے لئے بھی خصوصی طور پر بہت سی دعائیں مانگی گئیں
چنانچہ یہ دعا بارگاہ الہی میں جلد ھی قبول کر لی گئی اور چند روز بعد ھی ٹنڈل رام پرشاد نے ایک ولی کامل سید بخاری شاہ صاحب کے ہاتھوں اس شرط پر اسلام قبول کیا کہ میں اپنا نام تبدیل نہیں کرونگا چنانچہ اللہ رب العزت نے ٹنڈل رام پرشاد کے لئے رشدو ھدایت کے دروازے کھول دیئے اور نواب صاحب اسلام قبول کرنے کے کچھ عرصہ کے بعد دکن تشریف لے گئے اور اپنے وکیل کو وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد مجھے جہلم کے قبرستان میں دفنایا جائے ۔چنانچہ چند سال بعد یعنی قیام پاکستان سے 5سال قبل 1942 کو جہلم اور پاکستان کے مسلمانوں کے محسن اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے اور انکی میت دکن سے انکی ذاتی گاڑی میں جہلم لائی گئی اور جہلم میں بہت بڑی تعداد میں مسلمانوں نے جنازہ میں شرکت کی اور جہلم کے اس عظیم قبرستان میں سپردٍ خاک کیا گیا ،آج جہلم کے تقریباً ہر گھر کا کوئی نہ کوئی فرد اس قبرستان میں سپردٍ خاک ہے اور آج بھی جہلم کے باسی اس عظیم ٹنڈل رام پرشاد کی محبتوں اور احسان کے قرضدار ہیں۔ہمیں صرف اس آیت پر غور کرنے کی ضرورت ہے
سورۃ آل عمران (مدنی — کل آیات 200)
قُلِ اللّـٰـهُـمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِى الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُۖ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ ۖ بِيَدِكَ الْخَيْـرُ ۖ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ (26)
تو کہہ اے اللہ، بادشاہی کے مالک! جسے تو چاہتا ہے سلطنت دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے سلطنت چھین لیتا ہے، جسے تو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے تو چاہے ذلیل کرتا ہے، سب خوبی تیرے ہاتھ میں ہے، بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔