سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کے استعفیٰ و تقرری کے معاملہ کا نوٹس لے لیا

سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کے استعفیٰ و تقرری کے معاملہ کا نوٹس لے لیا
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: اسلام آباد میں سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کے استعفیٰ اور تقرری کے معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے سیکریٹری قانون کو ریکارڈ سمیت 17 جنوری کو طلب کر لیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے حکم نامہ جاری کیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حکم پراپرٹی سے مقدمہ میں ڈپٹی اٹارنی کی کیطرف سے معاونت نہ کرنے پر جاری کیا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل شفقت عباسی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اٹارنی جنرل آفس سے مقدمات میں درست معاونت نہیں مل رہی، بتائیں اٹارنی جنرل کون ہے۔

https://www.city42.tv/digital_images/large/2023-01-11/news-1673420986-4598.jpg

ڈپٹی اٹارنی جنرل شفقت عباسی نے بتایا کہ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف ہے، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اشتر اوصاف تو مستعفی ہوچکے ہیں اور انکا استعفیٰ منظور بھی ہو چکا ہے، نیا اٹارنی جنرل کون ہے۔ ڈپٹی اٹارنی نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان کو روسٹرم پر بلا لیا اور پوچھا کہ نیا اٹارنی جنرل کون ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی اٹارنی جنرل سے متعلق لا علمی کا اظہار کیا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ ملک بغیر اٹارنی جنرل کے بغیر کیسے چل رہا ہے، آپ کو نئے اٹارنی جنرل کا نام نہیں معلوم۔عدالت نے آئندہ سماعت 17 جنوری کو سیکریٹری قانون کو اٹارنی جنرل کے استعفیٰ اور نئے اٹارنی جنرل کی تقرری کے ریکارڈ کے ساتھ طلب کرلیا۔