سٹی42: نیوز چینل پر کرکٹرز مین کیڑے نکال کر روٹی کمانے والے ریٹائرڈ کرکٹر سسٹم کو سائیڈ لائن کر کے خود ٹیم کا سیلیکٹر بن گئے اور دو سٹارز کرکٹرز سے گرین شرٹس چھین لیں۔
ایک بار گرین شرٹس کے کیپٹن رہ چکے راشد لطیف نے سہ ملکی سیریز کے پہلے میچ میں شکست کے بعد فاسٹ بولنگ یونٹ میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کا فتویٰ دیا اور شاہین آفریدی کے ساتھ نسیم شاہ سے بھی نیشنل بلیزر چھیننے کا فرمان نشر کر دیا۔ راشد لطیف نے البتہ یہ نہیں بتایا کہ آج ساؤتھ افریقہ سے میچ میں یہی باؤلر اچھی پرفارمنس لے آئے تو راشد لطیف کل نیوز چینل کی سکرین پر آئیں گے یا نہیں۔
نیوز چینل کے کیمرہ کے روبرو بیٹھ کر سابق کیپٹن نے خود کے نامعلوم نفسیاتی دکھوں کا بدلہ ینگ کرکٹرز سے لیتے ہوئے فاسٹ بولرز خاص طور پر شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ کو پنچنگ بیگ بنا لیا اور نیوزی لینڈ کے ساتھ پاکستان کے میچ میں ان دو فاسٹ باؤلرز کےئ مقابل کیوی کرکٹرز کی اچھی بیٹنگ کو ان باؤلرز کی نا اہلی شمار کیا۔ بابا جی راشد لطیف صرف لتے لینے پر ہی نہیں رکے انہوں نے سیلیکشن کمیٹی کے تمام ارکان کو سائیڈ پر کرتے ہوئے گرین شرٹس تقسیم کرنے کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیا اور شاہین کو تو ٹیم سے نکال ہی ڈالا۔

راشد لطیف کی دلیل یہ تھی کہ شاہین آفریدی نے کچھ عرصے سے "میچ وننگ کارکردگی" کا مظاہرہ نہیں کیا جبکہ نسیم شاہ میں یہ سقم نکلا کہ "تجربے کے باوجود ان کی خدمات محدود ہیں۔"
کرکٹ کی ابجد کی کتاب مین لکھا ہے کہ "میچ وِننگ کارکردگی" ٹیم کے کیپٹن کا دردِ سر ہوتی ہے۔ باؤل کو باؤلنگ کرنا ہوتا ہے اور اپنی بہترین ورائیٹیز کا بہترین ممکنہ استعمال کرنا ہوتا ہے، باؤلر کی ٹیم میں موجودگی کے جواز میں اس کی جھولی میں آ گرنے والی وکٹوں سے کم اور اس کی اپنی کیٹیگری میں دستیاب ورائیٹیز پر کمانڈ، لائن، لینتھ، سپیڈ، سٹیمینا کی بہترین سطح پر رہنا اہم شمار ہوتا ہے۔ یہ غروری نہیں ہوتا کہ باؤلر کی پرفارمنس خراب ہو، بیشتر یہ ہوتا ہے کہ بہترین پرفارمنس دکھا رہے باؤلر کو اس سے زیادہ بہتر بیٹنگ کرنے والے کرکٹر کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔
راشد لطیف خوشدل شاہ اور سلمان آغا دونوں میں بھی ان کے پہلا میچ کھیلنے سے پہلے ہی کیڑے نکال چکے ہیں، آج ان دونوں کا حوالہ دیتے ہوئے راشد لطیف نے فرمایا، خوشدل شاہ اور سلمان آغا جیسے کھلاڑیوں کو اکثر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن بابراعظم، محمد رضوان، شاہین آفریدی اور نسیم شاہ جیسے اہم کھلاڑیوں کو ان کی "ناقص" کارکردگی پر جوابدہ نہیں ٹھہرایا جاتا۔
راشد لطیف نے کرکٹ کو ماپنے کا نیا پیمانہ ایجاد کرتے ہوئے فرمایا، ٹیم کی مجموعی کارکردگی کا انحصار سینئر کھلاڑیوں کے آگے بڑھنے پر ہے۔
ویورز مین سے ابلہ ویورز کی رہنمائی کے لئے راشد لطیف نے یہ بھی بتایا کہ راشد لطیف نے نشاندہی کی کہ حارث رؤف کی انجری نے ٹیم کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔
کرکٹ کے ریٹائرڈ افلاطون نےپاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) پر زور دیا کہ وہ نئے فاسٹ بولرز تیار کرنے اور سینئر کھلاڑیوں کے درمیان احتساب کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایک نیا نقطہ نظر اپنائے۔
محسن نقوی نے گرین شرٹس کیپٹن کے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا جیسے رضوان نے بات کی کہ ہمیں اپنی ٹیم پر ٹرسٹ ہونا چاہیے جس طرح اپ بہادر لوگ ہیں ہماری ٹیم بھی بہادر ہے خدارا ایک آدھ میچ سے ناراض نہ ہو جائے اس ٹیم نے اپ یہ دیکھیں کہ پچھلے تین چار ماہ میں اپ کو رزلٹ کیا دیے ہیں ہمیں صرف ایک چیز دیکھنی ہے کہ ہماری ٹیم محنت کتنی کر رہی ہے ہار جیت اللہ کے ہاتھ میں ہے، ٹیم محنت کر رہی ہے کہ نہیں۔ اگر محنت کرتی نظر آئے تو ان کو داد دیں چاہے وہ ہارے چاہے جیتے ۔ اپنی ٹیم پر ٹرسٹ کریں انشاءاللہ تعالی آپ کو وہ جس طرح پچھلے رزلٹ دیے ہیں اگٓے بھی رزلٹ دے گی۔
محسن نقوی نے کہا انشاءاللہ تعالی مجھے پی سی بی کو رضوان پر ،ٹیم پر ،سلیکشن ٹیم پر ،جو ان کے ساتھ سٹاف ہے ان سب پر پورا ٹرسٹ ہے اور انشاءاللہ تعالی یہ میدان ماریں گے اور آپ دیکھیں گے، اللہ تعالی ہماری مدد کریں گے۔ انشاءاللہ !