تمام یرغمالیوں کی رہائی-جنگ بندی معاہدے کی تکمیل کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین نے پیر اور منگل کی درمیانی رات تل ابیب میں جنوب کی طرف جانے والی ایالون ہائی وے کو بند کر دیا۔ تل ابیب میں یرغمالیوں کے عزیزوں اور دوستوں کے احتجاج میں پیر اورمنگل کی درمیانی شب اس وقت شدت دیکھی گئی جب حماس نے آج پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ معاہدے کی "اسرائیلی خلاف ورزیوں" کی وجہ سے اگلے یرغمالی قیدیوں کے(ہفتے کے روز) تبادلے میں تاخیر کریں گے۔
ان مظاہرین میں ڈیموکریٹ ممبرز کنیست گیلاد کیریو اور نما لازیمی بھی شامل تھے۔
تل ابیب مین مظاہرین مبینہ طور پر اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی کو تیز کرنے کے لیے معاہدے کی ٹائم لائن کو مختصر کیا جائے، کیونکہ رہا کیے جانے والے آخری تین افراد خراب طبی حالت میں اسرائیل کو واپس کیے گئے تھے۔
مظاہرین، جو بیگن سٹریٹ پل کے اوپر بھی مارچ کر رہے ہیں، نعرے لگاتے ہیں، "ہم انہیں (یرغمالیوں کو) نہیں چھوڑیں گے!"
اس احتجاج کے حق میں سوشل پلیٹ فارمز پر بھی مواد دیکھنے میں آیا۔
X پر ایک پوسٹ میں، کیریو کا کہنا ہے کہ وہ "یرغمالیوں کے خاندانوں اور ہزاروں اسرائیلیوں کے ساتھ مارچ کر رہے ہیں جو اب اپنے بھائیوں اور بہنوں کو چھوڑنے والے نیتن یاہو کے تکبر، جھوٹ اور سازشوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔"
نیوز آؤٹ لیٹ اسرائیل ہیوم کے مطابق، پولیس نے یرغمالی متان زنگاؤکر کی والدہ اور حکومت مخالف ایک ممتاز کارکن کو زبردستی احتجاج سے ہٹانے کی کوشش کی۔
"اسے اکیلا چھوڑ دو،" اس کے آس پاس کے مظاہرین کو پولیس افسران پر چیختے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔