غزہ کی صورتحال ایک بار پھر بگڑ گئی ہے۔ ایک طرف اسرائیل نے شمالی اور باقی غزہ کے درمیان واقع نتزاریم کوریڈور سے اپنی فوج واپس بلائی، دوسری طرف حماس نے اسرائیل کے باقی یرغمالیوں کو واپس کرنے سے انکار کر دیا اور اس کے بعد اسرائیل نے غزہ سے متصل سرحد پر اپنی فوج کو ایک مرتبہ پھر چوکس کر دیا ہے۔ یہ صورتحال امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غزہ کی تعمیر نو کے نام پر غزہ کو تمام فلسطینیوں سے خالی کرنے کے بیانات سے جنم لینے والی کنٹروورسی سے بالکل الگ ایک پریشان کن ڈیویلپمنٹ ہے۔
اتوار کو یہ ہوا تھا کہ اسرائیلی فوجی نتزاریم کوریڈور سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔ یہ سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل کے اندر جا کر حملوں کے بعد اسرائیل کی غزہ میں زمینی کارروائی کے دوران بنایا گیا ایک فوجی زون تھا جو غزہ کی پٹی کے شمال کو جنوب سے منقطع کرتا تھا۔ اسرائیل نے دوحہ مین یرغمالیوں کی واپسی کے عوض جنگ بندی کے معاہدہ کے تحت کل نتزاریم کوریڈور سے اپنی فوج واپس بلائی تھی۔
بی بی سی نے اس حوالے سے اپنی سٹوری میں لکھا تھا کہ گاڑیوں اور گدوں اور دیگر سامان سے لدی گاڑیوں میں سینکڑوں فلسطینیوں نے واپسی کے بعد شمالی غزہ کی طرف لوٹنا شروع کر دیا ۔
اسرائیل کا انخلا 19 جنوری کے اسرائیل اور حماس کے جنگ بندی معاہدے کے مطابق تھا جس کے تحت اب تک 16 اسرائیلی یرغمالیوں اور 566 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جا چکا ہے۔
غزہ میں حماس کی قید سے اسرائیل کے یرغمالیوں اور اسرائیلی جیلوں سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا تازہ واقعہ ہفتے کے روز ہوا تھا جس مین تین اسرائیلی قیدیوں کو رہائی ملی تھی اور 183 فلسطینیوں کو رہا کیا گیا تھا۔
تین ہفتوں کے عرصے میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے اختتام تک، 33 یرغمالیوں کی فہرست میں سے کم از کم 25 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں اور 1,900 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی توقع ہکی جا رہی تھی۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کی دی ہوئی اطلاع کے مطابق پہلے مرحلہ مین جن یرغمالیوں کی رہائی ٹیبل پر طے ہوئی تھی ان 33 میں سے آٹھ حماس کی قید میں ہی مر چکے ہیں۔
حماس کا مزید یرغمالیوں کو رہا کرنے سے انکار
حماس نے پیر کے روز اعلان کیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ ایک نازک جنگ بندی معاہدے کے تحت اگلے یرغمالیوں کے تبادلے کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دے گا، اس پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اپنی شرائط پر عمل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا، "قیدیوں (اسرائیلی یرغمالیوں) کی رہائی، جو اگلے ہفتہ، 15 فروری 2025 کو طے کی گئی تھی۔
حماس کے ترجمان نے کہا کہ اسرائیل نے گزشتہ ہفتے تک جو کرنا طے تھا وہ ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔
حماس کے ترجمان نے یرغمالیوں کی آئندہ ہفتے کے روز واپسی کے عمل کو روکنے کا اعلان کرنے کے ساتھ یہ بھی دعویٰ کیا کہ جب تک اسرائیل معاہدہ کی شرائط پر برقرار رہے گا حماس بھی برقرار رہے گی۔
سات اکتوبر حملے کے دوران اغوا کر کے یرغمال بنائے گئے 251 اسرائیلیوں میں سے 73 اب تک غزہ میں قید ہیں، جن میں سے 34 اسرائیلی فوج کے مطابق مرچکے ہیں اور اسرائیل ان کی لاشیں واپس لینا چاہتا ہے تاکہ انہین ان کے لواحقین کے سپرد کیا جائے اور وہ طریقہ کار کے مطابق ان کی تدفین کر سکیں۔
اب پیر کے روز حماس کےبیان میں کہا گیا ہے کہ حماس نے "گزشتہ تین ہفتوں کے دوران " خلاف ورزیوں اور معاہدے کی شرائط کی پاسداری میں ناکامی پر گہری نظر رکھی ہے"۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اب تک معاہدہ کی خلاف ورزی کی شکایت اسرائیل کی طرف سے آتی رہی، حماس نے جن سویلین خواتین کو پہلے رہا کرنا طے کیا تھا ان مین سے ایک کو وقت پر رہا نہین کیا جس کے جواب میں اسرائیل نے نتزاریم کوریڈور کو معاہدہ کے مطابق کھولنے کا کام روک دیا تھا، ایک دن بعد حماس نے سویلین خاتون یرغمالی کو رہا کرنے کا اعلان کیا تو اسرائیل نے کوریڈور کو واپس آنے والوں کے لئے کھول دیا تھا۔ معاہدہ کے مطابق ایک اور سویلین خاتون شیری بیباس اور ان کے دو بچوں کو رہا کیا جانا تھا جس کے بارے میں بعد میں کوئی حتمی بات سامنے نہیں آئی کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔
اسرائیل کے اندر آج پیر اور منگل کی درمیانی شب بھی شیری بیبیاس اور ان کے دو بچوں کی رہائی کے متعلق گو مگو عروج پر ہے لیکن اس سے قطع نظر حماس کے ترجمان نے آج پہلی مرتبہ اسرائیل کی جانب سے ڈیل کی وائلیشن کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ "ان (خلاف ورزیوں)میں شمالی غزہ میں بے گھر ہونے والے لوگوں کی واپسی میں تاخیر، (غزہ) کی پٹی کے مختلف علاقوں میں گولہ باری اور گولیوں کا نشانہ بنانا، اور انسانی امداد کی تمام شکلوں میں داخلے کی اجازت دینے میں ناکامی شامل ہے جیسا کہ اتفاق کیا گیا تھا،" ترجمان نے دعویٰ کیا، حماس نے "اپنی تمام ذمہ داریوں کو پورا کیا ہے"۔
اسرائیل میں 17 یرغمالیوں کی واپسی کا انتظار
ٹائمز آف اسرائیل نے تصویروں کے ایک کولاج کے ساتھ لکھا ہے، یہ وہ 17 یرغمال ہیں جنہیں غزہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں واپس کیا جانا ہے۔
حماس نے کہا ہے کہ پہلے مرحلے میں رہا کیے جانے والے 8 مغوی ہلاک ہوچکے ہیں، لیکن اس نے یہ نہیں بتایا کہ کون مر گئے ہیں اور کون زندہ ہیں؛ شیری بیباس، اس کے دو بچے، پانچ بوڑھے مرد، 50 سال سے کم عمر کے نو مرد ابھی تک رہا نہیں ہوئے۔
غزہ میں جاری جنگ بندی معاہدے میں ہفتے کے روز تک یرغمالیوں کی رہائی کے پانچ دور مکمل ہونے کے بعد، پہلے مرحلے میں طے ہو چکے 17 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا جانا ہے۔
جنوری میں شروع ہونے والی جنگ بندی کے دنوں میں، آنے والے ہفتوں میں غزہ سے رہا ہونے والے متعدد یرغمالیوں کے اہل خانہ حماس کی جانب سے یہ اطلاع دینے کے بعد اپنے پیاروں کی قسمت پر خوف کاشکار ہیں کہ اصل فہرست میں شامل 33 یرغمالیوں میں سے آٹھ ہلاک ہو چکے ہیں۔
حماس کے اس اعلان کے بعد اسرائیلی فوج کی طرف سے یرغمالیوں کے خاندانوں کو مطلع کیا گیا کہ حماس کی معلومات سابقہ جائزوں کے مطابق ہیں اور ان کی قسمت کے بارے میں شدید خدشات ہیں۔ معاہدہ کے مطابق حماس جن تین یرغمالیوں کو ہفتے والے دن رہا کرنا چاہتی ہے صرف ان ہی کے نام اسرائیل کی انتظامیہ تک 24 گھنٹے پہلے بتاتی ہے۔ باقی یرغمالیوں مین سے کون زندہ ہیں، کون مر چکے، یہ اسرائیل میں کسی کو پتہ نہیں۔
اس ضمن میں سب سے زیادہ اذیت ناک صورتحال بیباس فیملی کر درپیش ہے جن کے سات اکتوبر کو اغوا ہونے والے دو بچوں کے باپ یردن بیباس کو تو حماس نے رہا کر دیا ہے لیکن اس سے پہلے جس سویلین خاتون شیری بیباس کو ان کے دو بچوں کے ساتھ رہا کرنا تھا انہین اب تک نہ تو رہا کیا نہ ہی ان کے متعلق حقائق سے آگاہ کیا۔
معاہدے کے ابتدائی مرحلے میں جن یرغمالیوں کو رہا کیا جانا دو ہفتے پہلے واجب تھا، ان میں 33 سالہ شیری سلبرمین بیباس اور اس کے دو بیٹے ایریل عمر 5 سالاور کفیر عمر 2 سال شامل ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اسرائیل بیباس اور اس کے جوان بیٹوں کی حالت واضح کرنے کے لیے ثالثوں پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ حماس نے نومبر 2023 میں دعویٰ کیا تھا کہ تینوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے، جسے اسرائیل نے "ظالمانہ" دعویٰ قرار دیا جس کی وہ تصدیق نہیں کر سکا۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ شیری، ایریل اور کفیر کی قسمت پر "شدید تشویش" ہے۔
پہلے مرحلے میں رہا کیے جانے والے بقیہ یرغمالیوں کی فہرست میں پانچ معمر افراد
پہلے مرحلے میں رہا کیے جانے والے بقیہ یرغمالیوں کی فہرست میں پانچ معمر افراد بھی شامل ہیں:
اضحاک الگرات عمر 70 سال
شلومو منصور، 86 سال
اوہد یحلومی، 50 سال
اودد لفشٹز، 84 سال
تساہی ایدان، 50 سال
طے شدہ معاہدہ کے مطابق اس کے بعد رہا کئے جانے والے 50 سال سے کم عمر کے نو مرد:
ہشام السید، 36
ساگوئی ڈیکل-چن، 36
یائر ہارن، 46
عمر وینکرٹ، 23
ساشا تروفانوف، 28
ایلیا کوہن، 27
ایویرا مینگیسٹو، 38
تل شوہم، 39
عمر شیم توف، 22
اسرائیل کے اخبار ٹائمز آف اسرائیل نے باقی یرغمالیوں کی واپسی کے انتظار کے متعلق رپورٹ میں لکھا، "معاہدے کا نفاذ متزلزل رہا ہے، اسرائیل اور حماس دونوں ایک دوسرے پر متعدد موڑ پر اس کی خلاف ورزی کا الزام لگا رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غزہ سے فلسطینیوں کی نقل مکانی کی متنازعہ تجویز نے اس بات پر مزید غیر یقینی کو ہوا دی کہ آیا کثیر الجہتی معاہدہ برقرار رہے گا۔"
دوحہ میں طویل مذاکراتی عمل کے بعد طے ہونے والی تین مرحلوں پر مشتمل ڈیل کے بعد کے مراحل میں غزہ میں قید بقیہ یرغمالیوں کی رہائی، مزید فلسطینی سکیورٹی قیدیوں کی رہائی، اور غزہ پٹی سے اسرائیلی انخلاء کے ساتھ ساتھ انکلیو میں "پائیدار سکون" تک پہنچنے کے بیان کردہ ہدف کے ساتھ مذاکرات کو دیکھنا ہے۔
مشکل کا مشکل تر ہو جانا
جنگ بندی کا پہلے مرحلہ مکمل ہونے کے بعد دوسری مرحلہ میں برقرار رہنا ابتدا میں ہی مشکل تصور کیا جا رہا تھا کیونکہ صرف یہ طے تھا کہ پہلے مرحلہ کے دوران ہی فریقین دوحہ مین دوسرے مرحلہ کے متعلق مذاکرات شروع کریں گے لیکن دوسرے مرحلے کے لیے بات چیت جسے گزشتہ ہفتے شروع ہونا تھا وہ ہنوز شروع نہیں ہو پائی۔ تاہم وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے ہفتے کی شام دوحہ اپنی مذاکراتی ٹیم بھیجی۔ اس مذاکراتی ٹیم کے پاس سر دست صرف جاری ابتدائی مرحلے کے بارے میں تکنیکی مسائل پر بات کرنے کا مینڈیٹ ہے۔ ان مسائل کے حل کے بعد یہ ٹیم دوسرے مرحلہ کی بات چیت کی طرف بڑھ سکتی تھی لیکن اس سے پہلے ہی حماس نے باقی یرغمالیوں کی واپسی روکنے کا اعلان کر کے ایک بار پھر پہلے ہی مرحلہ کے تکنیکی مسائل کو پہلے حل کرنے کی حقیقی ضرورت کی تصدیق کر دی۔
اس دوران اسرائیل میں یہ بھی ہوا ہے کہ وزیر اعظم کے ترجمان نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ وزیر اعظم نیتن یاہو نے واشنگٹن میں غزہ میں لڑائی کے خاتمے کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا تھا۔ یہ لڑائی کا خاتمہ دراصل دوسرے مرحلے کی ضرورت ہے، لیکن اسرائیل میں حکمراں نیتن یاہو کے اتحاد کے دائیں بازو کی جماعتوں کے لیے یہ ایک ریڈ لائن ہے جس سے آگے اتحاد ٹوٹ بھی سکتا ہے۔
مرد یرغمالیوں کے اہل خانہ جو معاہدے کے پہلے مرحلے تک رہائی کے لیے تیار نہیں ہیں، انہوں نے دوسرے مرحلے پر مذاکرات میں تاخیر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔