ویب ڈیسک : ایران کےسپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے سابق آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی کو سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل (ایس این ایس سی) میں اپنا نمائندہ مقرر کرنے کے بعدمیجر جنرل علی عبداللہی کو ایرانی مسلح افواج کا چیف آف اسٹاف مقرر کیا ہے۔ انہوں نےمختلف احکامات جاری کرتے ہوئے 6 فوجی کمانڈروں کی تقرری کی ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ’مہر نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے تمام مسلح افواج کی کمان سنبھالنے والی مجتبیٰ خامنہ ای نے فوج کے 6 اعلیٰ عہدوں پر نئی تقرریاں کیں، جن میں آئی آر جی سی کے سربراہ کا عہدہ بھی شامل ہے۔ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے میجر جنرل علی عبداللہی کو ایرانی مسلح افواج کا چیف آف اسٹاف مقرر کیا ہے۔ جبکہ بریگیڈیر جنرل کیومرث حیدری کو ایرانی مسلح افواج کا ڈپٹی چیف آف اسٹاف بنایا گیا۔ انہوں نے جنرل احمد وحیدی کو ایران کی اسلامک ریولوشنری گارڈ کارپس (آئی آر جی سی) کا چیف کمانڈر مقرر کیا۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے میجر جنرل مصطفیٰ ایزدی کو آئی آر جی سی کا ڈپٹی کمانڈر اِن چیف مقرر کیا ہے۔ سپریم لیڈر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’میجر جنرل مصطفیٰ ایزدی، آپ کی لگن، قابلیت اور قیمتی تجربے کے پیش نظر اور آئی آر جی سی کے کمانڈر اِن چیف کی سفارش پر میں آپ کو آئی آر جی سی کا ڈپٹی کمانڈر اِن چیف مقرر کرتا ہوں‘‘۔
سپریم لیڈرنے ریئر ایڈمیرل علی ازمئی کو آئی آر جی سی بحریہ کا کمانڈر بنایا۔ سپریم لیڈر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پوسٹ میں لکھا کہ ’’ریئر ایڈمیرل علی ازمئی، ریئر ایڈمیرل تنگسری کی شہادت کو مدنظر رکھتے ہوئے اور آپ کی لگن، قابلیت اور تجربے کے پیش نظر آئی آر جی سی کے کمانڈر اِن چیف کی سفارش پر میں آپ کو آئی آر جی سی بحریہ کا کمانڈر مقرر کرتا ہوں‘‘۔انہوں نے حسین تائب کو آئی آر جی سی’بسیج‘ تنظیم کا سربراہ مقرر کیا۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’حجۃ الاسلام حسین تائب، صہیونی-امریکی دشمن کے ہاتھوں میجر جنرل سلیمانی کی شہادت کو دیکھتے ہوئے اور آپ کے عزم، قابلیت و تجربہ کو مدنظر رکھتے ہوئے آئی آر جی سی کے کمانڈر اِن چیف کی سفارش پر میں آپ کو آئی آر جی سی بجیس تنظیم کا سربراہ مقرر کرتا ہوں‘‘۔
واضح رہے کہ اس وقت آبنائے ہرمز ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کا بڑا مرکز بنا ہوا ہے۔ سابق آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی نے جولائی میں کہا تھا کہ اس اسٹریٹجک سمندری راستے پر کنٹرول ایران کے لیے انتہائی اہم ہے اور انہوں نے اسے درجنوں ایٹم بموں سے بھی زیادہ اہم قرار دیا تھا۔