ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ کا سونےاور ڈالرز کی ضبطگی کےمتعلق بڑا حکم

لاہور ہائیکورٹ کا سونےاور ڈالرز کی ضبطگی کےمتعلق بڑا حکم
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف:لاہور ہائیکورٹ نے سونا اور ڈالرز کی ضبطگی سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے کسٹمز حکام کو شہری کی جائیداد اصل حالت میں واپس کرنے کا حکم دے دیا۔

دو رکنی بینچ، جس کی سربراہی ملک جاوید اقبال وینس کر رہے تھے، نے 9 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ سرکاری تحویل میں موجود کسی چیز کی ہیئت تبدیل ہونے سے مالک کا حقِ ملکیت ختم نہیں ہوتا اور ریاست محض ایک نگران کے طور پر کام کرتی ہے، وہ کسی شہری کی جائیداد کو غیرقانونی طور پر اپنے پاس نہیں رکھ سکتی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ کسٹمز حکام شہری کی قیمتی جائیداد کو اپنی مرضی کی قیمت سے تبدیل نہیں کر سکتے اور آئین کا آرٹیکل 24 شہریوں کو جائیداد کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی شہری کو عدالتی فیصلے کے بغیر اس کی ملکیت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے کسٹمز حکام کی جانب سے 58 لاکھ روپے ریفنڈ کے سابقہ آرڈر کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکام سونے کو قانونی طریقے سے نیلام کرنے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے۔ مزید کہا گیا کہ سونے کی صرف قیمت ادا کرنا اس کا متبادل نہیں ہو سکتا۔

عدالت نے حکم دیا کہ کسٹمز حکام پگھلا کر بنائی گئی سونے کی اینٹ درخواست گزار کے حوالے کریں، جبکہ 10 ہزار امریکی ڈالرز یا ادائیگی کے وقت کے ایکسچینج ریٹ کے مطابق پاکستانی رقم بھی ادا کی جائے۔

فیصلے کے مطابق شہری سے ایک لاکھ روپے جرمانہ وصول کیا جائے گا۔

درخواست گزار عباس علی نے ضبط شدہ سونا اور ڈالرز واپس نہ ملنے پر عدالت سے رجوع کیا تھا، مؤقف اختیار کیا گیا کہ سپریم کورٹ سے بریت کے باوجود کسٹمز حکام سونا واپس نہیں کر رہے اور اسے پگھلا کر اینٹ بنا دیا گیا ہے۔

دوسری جانب کسٹمز حکام کا مؤقف تھا کہ سونا اسٹیٹ بینک کو منتقل ہو چکا ہے اور قانون کے مطابق شہری کو صرف فروخت شدہ رقم ہی دی جا سکتی ہے، تاہم عدالت نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے شہری کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔