سٹی 42: پاکستان کی صدارت میں اقوام متحدہ کی کانفرنس آن ڈس آرمامینٹ کی سالانہ رپورٹ اتفاقِ رائے سے منظور کرلی گئی۔سفارتی ذرائع کے مطابق یہ 2026 میں کانفرنس کا واحد اہم ترین متفقہ فیصلہ ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق طاہر حسین اندرابی کی صدارت میں تخفیفِ اسلحہ کانفرنس نے اپنی سالانہ رپورٹ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کرنے کے لیے اتفاقِ رائے سے منظور کی۔ بطور صدر طاہر حسین اندرابی نے رپورٹ کی تیاری اور منظوری کے عمل میں اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان نے اجلاس کے اختتام سے تین روز قبل سالانہ رپورٹ کی تیاری اور منظوری کا مرحلہ مکمل کیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق بڑی طاقتوں کے درمیان اعتماد کے فقدان اور دنیا میں جاری تنازعات کے باوجود پاکستان نے رپورٹ اتفاقِ رائے سے منظور کرانے میں کامیابی حاصل کی۔
رواں برس کانفرنس اپنے لائحہ عمل اور ذیلی اداروں کے قیام پر اتفاق نہیں کرسکی۔ اس صورتحال میں سالانہ رپورٹ کی منظوری 2026 میں کانفرنس کا واحد اہم ترین متفقہ فیصلہ ہے طاہر اندرابی کی زیر قیادت پاکستانی صدارت نے بامعنی اور جامع رپورٹ پر بتدریج اتفاقِ رائے کے لیے کام کیا اور اہم وفود کے بنیادی مؤقف اور حساسیت کو مدنظر رکھا۔
سالانہ رپورٹ کی منظوری کے لیے کانفرنس کے تمام 65 رکن ممالک کی رضامندی درکار تھی، جن میں جوہری ہتھیار رکھنے والی تمام ریاستیں اور عسکری اعتبار سے اہم ممالک شامل ہیں پاکستان نے چار ہفتوں کے دوران کھلی غیر رسمی مشاورت کے ساتھ تمام علاقائی اور سیاسی گروپوں، بشمول بڑی طاقتوں کے وفود سے دوطرفہ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ مختلف تجاویز پر علاقائی اور سیاسی گروپوں سمیت بڑی طاقتوں کی آرا اور قابل قبول حدود کا جائزہ لیا گیا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق طاہر حسین اندرابی نے کسی متن کو مسلط کرنے کے بجائے مفاہمتی زبان تیار کی اور اسے باقاعدہ پیش کرنے سے قبل متعلقہ وفود کے ساتھ غیر رسمی طور پر جانچا۔ جن نکات پر اتفاقِ رائے کی گنجائش پیدا ہوئی، انہیں نظرثانی شدہ متن میں شامل کیا گیا، جبکہ جہاں اتفاق ممکن نہ تھا وہاں پاکستان نے بطور صدر ایسی پیش قدمی سے گریز کیا۔
پاکستانی صدارت کو کانفرنس میں مبصر ریاستوں کی شرکت اور مذاکرات کو آگے بڑھانے سمیت مشکل معاملات کا بھی سامنا رہا، جن پر رکن ممالک کے مؤقف میں نمایاں اختلاف موجود تھا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے مختلف جانب سے دباؤ کے باوجود توازن برقرار رکھا اور مجموعی اتفاقِ رائے کا تحفظ یقینی بنایا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق سالانہ رپورٹ کی منظوری اس بات کی عکاس ہے کہ خاطر خواہ سیاسی عزم موجود ہو تو بعض شعبوں میں پیش رفت ممکن ہے۔
اگلے مرحلے میں سالانہ رپورٹ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو ارسال کی جائے گی، جہاں اسے اول کمیٹی میں زیر غور لایا جائے گا۔ پاکستان کو اکتوبر میں جنرل اسمبلی میں سالانہ رپورٹ سے متعلق پیش کی جانے والی قرارداد پر مذاکرات کی رہنمائی بھی کرنا ہوگی۔