سٹی 42: پاکستانی محققہ حفظہ گلزار نے پولینڈ میں ایک اہم سائنسی تحقیق میں حصہ لیا ہے، جس میں ہولوٹوموگرافی کے ذریعے زندہ بیضہ خلیات کی سہ جہتی تصاویر تیار کی گئی ہیں۔ محققین کے مطابق یہ طریقہ آئی وی ایف کے لیے بہتر بیضہ خلیات کے انتخاب میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
منڈی بہاؤالدین سے تعلق رکھنے والی حفظہ گلزار نے یاگیلونین یونیورسٹی کے مالوپولسکا سینٹر آف بائیوٹیکنالوجی اور پولش اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر فزکس سے وابستہ تحقیقی ٹیم کے ساتھ کام کیا۔
تحقیقی ٹیم کے مطابق زندہ بیضہ خلیات کی سہ جہتی امیجنگ کے لیے ہولوٹوموگرافی کا یہ دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا استعمال ہے۔ اس تکنیک کے ذریعے خلیات کی ظاہری ساخت کے ساتھ ان کی میٹابولک اور بائیو کیمیکل کیفیت کا بھی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ فرٹیلائزیشن سے پہلے کسی بیضہ خلیے کی نشوونما کی صلاحیت جانچنے میں مدد دے سکتا ہے، جس سے ایمبریالوجسٹس ایسے صحت مند خلیات کے انتخاب میں معاونت حاصل کرسکیں گے جن کے کامیاب حمل میں تبدیل ہونے کے امکانات زیادہ ہوں۔
حفظہ گلزار نے اپنے پروفیسرز کی نگرانی میں اس تحقیقی منصوبے پر کام کیا۔ ٹیم نے تجزیے کا نیا طریقہ تیار کرنے کے ساتھ زندہ بیضہ خلیات کو ہولوٹوموگرافی کے ذریعے تیار کرنے اور ان کی امیجنگ کا بھی نیا طریقہ وضع کیا۔
یہ تکنیک خلیے کو زندہ رکھتے ہوئے اس کے اندرونی خواص اور میٹابولزم کا زیادہ تفصیلی جائزہ لینے کی سہولت فراہم کرتی ہے محققین کے مطابق پورا عمل تقریباً 10 منٹ میں مکمل ہوجاتا ہے محققین کا کہنا ہے کہ مزید تحقیق اور کلینیکل نتائج کی صورت میں مستقبل میں اس تکنیک کو ایمبریالوجی لیبارٹریوں کے معمول کے کام کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔
موجودہ آئی وی ایف طریقہ کار میں ایمبریالوجسٹس اکثر بیضہ خلیات کا جائزہ خوردبین کے ذریعے ان کی ظاہری ساخت کی بنیاد پر لیتے ہیں۔ نئی تکنیک خلیے کی میٹابولک اور بائیو کیمیکل حالت سے متعلق اضافی اور نسبتاً معروضی معلومات فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
محققین کے مطابق اس معلومات سے بہتر اور صحت مند بیضہ خلیات کے انتخاب میں مدد مل سکتی ہے، جس سے کامیاب فرٹیلائزیشن، حمل اور صحت مند بچے کی پیدائش کے امکانات بڑھ سکتے ہیں حفظہ گلزار کی سائنسی کاوش پر ان کے آبائی علاقے منڈی بہاؤالدین میں خوشی کا اظہار کیا گیا ہے۔ حفظہ گلزار گورنمنٹ سر سید ہائی اسکول کے سابق سینئر استاد گلزار احمد گوندل کی صاحبزادی ہیں۔
علمی اور سائنسی حلقوں نے پاکستانی محققین کی حوصلہ افزائی اور سرکاری سطح پر مزید تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ ملک میں تحقیق اور سائنسی صلاحیتوں کو فروغ دیا جاسکے تحقیق میں تولیدی طب میں جدید امیجنگ ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کیا گیا ہے اور آئی وی ایف سے قبل بیضہ خلیات کے معیار کے زیادہ مؤثر جائزے کے لیے ایک نئی راہ کی نشاندہی کی گئی ہے۔