ملک اشرف : خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے مقدمات میں ملزمان کو سزائیں دلوانے کے لیے مؤثر کارروائی اور نگرانی کا مربوط نظام وضع نہ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ پولیس اور پراسیکیوشن کے درمیان مؤثر رابطے کے فقدان کے باعث متعدد مقدمات میں دورانِ تفتیش رہ جانے والے نقائص چالان عدالت میں جمع کرواتے وقت بھی دور نہیں کیے جا رہے، جس کا فائدہ ملزمان کو پہنچنے لگا ہے۔
ذرائع کے مطابق جنسی جرائم کے مقدمات میں تفتیشی افسران اور پراسیکیوٹرز کے درمیان مؤثر رابطے کا فقدان ایک اہم مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے۔ تفتیشی افسر اور پراسیکیوٹر کے لیے مشترکہ تفتیشی طریقہ کار وضع نہ ہونے کے باعث مقدمات کی تفتیش اور پراسیکیوشن الگ الگ سمتوں میں آگے بڑھتی رہتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران رہ جانے والی قانونی اور شہادتی خامیوں کی نشاندہی بروقت نہ ہونے کے باعث چالان عدالت میں جمع کرواتے وقت بھی متعدد نقائص برقرار رہتے ہیں۔ نتیجتاً دورانِ ٹرائل ایسے مسائل سامنے آتے ہیں جو استغاثہ کے مقدمے کو کمزور کر دیتے ہیں۔
پولیس اور پراسیکیوشن کے درمیان باہمی اختلافات بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ پولیس کی جانب سے بعض پراسیکیوشن افسران پر چالان جمع کروانے کے عوض رشوت لینے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جبکہ پراسیکیوشن حکام کی جانب سے پولیس پر نااہلی اور بددیانتی کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ذرائع کے مطابق آئی جی پولیس اور پراسیکیوٹر جنرل کے درمیان رابطوں اور جنسی جرائم کے مقدمات میں بہتری کے لیے اقدامات کے باوجود عملی سطح پر خاطر خواہ بہتری نہیں آ سکی۔ پولیس اور پراسیکیوشن حکام کی جانب سے وقتاً فوقتاً رہنما اصول بھی جاری کیے جاتے رہے ہیں، تاہم ان پر مؤثر عملدرآمد کا فقدان برقرار ہے۔
جنسی جرائم کے مقدمات میں دورانِ ٹرائل گواہان کی عدم دلچسپی بھی ملزمان کی بریت کی ایک اہم وجہ بننے لگی ہے۔ بعض مقدمات میں گواہان عدالت میں اپنے سابقہ بیانات پر قائم نہیں رہتے یا مقدمے کی پیروی میں مطلوبہ تعاون نہیں کرتے، جس سے استغاثہ کے لیے جرم ثابت کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔اسی طرح پراسیکیوشن کی جانب سے مقدمات کی مؤثر پیروی نہ کیے جانے کے معاملات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ مقدمات میں شواہد کی بروقت جانچ، گواہان کی تیاری اور تفتیشی نقائص دور کرنے کے لیے پولیس کے ساتھ مؤثر رابطہ نہ ہونے سے مقدمات ٹرائل کے مرحلے پر کمزور پڑ جاتے ہیں۔ذرائع کے مطابق ناقص تفتیش اور پراسیکیوشن کی عدم دلچسپی کے باعث بعض سنگین نوعیت کے مقدمات میں ملزمان ٹرائل کورٹس سے بھی بری ہو رہے ہیں، جبکہ ٹرائل کورٹ سے سزا پانے والے بعض ملزمان کی سزائیں بھی شہادت میں خامیوں کے باعث اعلیٰ عدالتوں میں برقرار نہیں رہ پاتیں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے مقدمات میں صرف ایف آئی آر کا اندراج اور ملزم کی گرفتاری کافی نہیں، بلکہ شواہد اکٹھے کرنے سے لے کر چالان کی تیاری، گواہان کے بیانات، فرانزک شواہد اور ٹرائل کے اختتام تک ایک مربوط نظام کے تحت مقدمے کی نگرانی ضروری ہے۔ماہرین کے مطابق تفتیشی افسر اور پراسیکیوٹر کو مقدمے کے ابتدائی مرحلے ہی سے مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنا چاہیے تاکہ تفتیش میں رہ جانے والی خامیوں کو چالان جمع کروانے سے پہلے دور کیا جاسکے اور عدالت میں استغاثہ کا مقدمہ قانونی اور شہادتی طور پر مضبوط انداز میں پیش ہو۔ذرائع کا کہنا ہے کہ خواتین اور بچوں کے جنسی جرائم کے مقدمات میں مؤثر پراسیکیوشن کے لیے پولیس، پراسیکیوشن اور متعلقہ اداروں کے درمیان مربوط نگرانی کا نظام ناگزیر ہے۔ بصورت دیگر تفتیشی نقائص، پراسیکیوشن کی کمزور پیروی اور گواہان کے عدم تعاون کے باعث سنگین جرائم کے ملزمان کو قانونی خامیوں کا فائدہ ملتا رہے گا۔اس صورتحال نے یہ اہم سوال بھی اٹھا دیا ہے کہ جنسی جرائم کے مقدمات میں ملزمان کو سزا دلوانے کی ذمہ داری صرف تفتیشی افسر یا پراسیکیوٹر کی نہیں بلکہ پورے فوجداری نظام کی مشترکہ ذمہ داری ہے، تو پھر اس نظام کی مؤثر نگرانی اور جوابدہی کا طریقہ کار کب وضع کیا جائے گا؟