ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ناقص تفتیش، کمزور شواہد اور غیر مؤثر پراسیکیوشن کے باعث ٹرائل کورٹس کی سزائیں برقرار نہ رہ سکیں

ناقص تفتیش، کمزور شواہد اور غیر مؤثر پراسیکیوشن کے باعث ٹرائل کورٹس کی سزائیں برقرار نہ رہ سکیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ناقص تفتیش، کمزور شواہد اور غیر مؤثر پراسیکیوشن کے باعث ٹرائل کورٹس کی سزائیں برقرار نہ رہ سکیں
لاہور: قتل کے مقدمات میں ٹرائل کورٹس سے سزائے موت پانے والے ملزمان کی اکثریت لاہور ہائیکورٹ سے بری ہونے لگی۔ پولیس کی ناقص تفتیش، شواہد اکٹھے کرنے میں خامیاں، گواہوں کے بیانات میں تضاد اور پراسیکیوشن کی جانب سے مؤثر پیروی نہ کیے جانے کے باعث استغاثہ متعدد مقدمات میں ملزمان کے خلاف جرم ثابت کرنے میں ناکام ہو رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق قتل کے مقدمات میں ٹرائل کورٹس کی جانب سے ملزمان کو سزائے موت سنائے جانے کے باوجود اپیل کے مرحلے پر مقدمات کے ریکارڈ اور شواہد کا ازسرنو جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس دوران تفتیشی نقائص، گواہوں کے بیانات میں تضاد اور شواہد میں موجود خامیاں سامنے آنے پر بعض مقدمات میں ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا جاتا ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق قتل جیسے سنگین مقدمے میں محض الزام، ایف آئی آر یا ملزم کی گرفتاری سزا کے لیے کافی نہیں ہوتی بلکہ استغاثہ کو جرم کا ہر ضروری جزو قابل اعتماد اور قانونی طور پر قابل قبول شواہد کے ذریعے ثابت کرنا ہوتا ہے۔ تفتیش کے کسی اہم مرحلے پر رہ جانے والی خامی بعد ازاں مقدمے کے فیصلے پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض مقدمات میں پولیس کی جانب سے تفتیش کے دوران اہم شواہد محفوظ کرنے، جائے وقوعہ سے ملنے والے مواد کی درست دستاویز بندی اور گواہوں کے بیانات میں تسلسل برقرار رکھنے میں خامیاں رہ جاتی ہیں۔ یہ خامیاں ٹرائل کے دوران سامنے آنے کے باوجود مؤثر انداز میں دور نہیں ہو پاتیں۔
گواہوں کے بیانات میں تضاد بھی قتل کے مقدمات کو کمزور کرنے کی اہم وجہ بن رہا ہے۔ بعض مقدمات میں گواہان کے ابتدائی بیانات اور عدالت میں دیے گئے بیانات میں فرق سامنے آتا ہے، جبکہ بعض مواقع پر گواہان استغاثہ کے مؤقف کی مکمل تائید نہیں کر پاتے۔
اسی طرح فرانزک اور دیگر مادی شواہد کو مقدمے کے دیگر شواہد کے ساتھ مضبوط انداز میں جوڑنے میں ناکامی بھی پراسیکیوشن کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے۔ اگر شواہد کی کڑی ملزم کو جرم سے جوڑنے کے لیے مطلوبہ قانونی معیار پر پوری نہ اترے تو عدالت کے لیے سزا برقرار رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ذرائع کے مطابق پراسیکیوشن کی جانب سے مقدمات کی مؤثر پیروی نہ کیے جانے پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ مقدمے کے اہم گواہوں کی پیشی، ان کے بیانات میں موجود تضادات کی وضاحت، تفتیشی افسر سے ضروری سوالات اور شواہد کی قانونی حیثیت کو مؤثر انداز میں ثابت نہ کیا جائے تو استغاثہ کا مقدمہ کمزور پڑ سکتا ہے۔
صورتحال کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بعض مقدمات میں ٹرائل کورٹ نے دستیاب شواہد کی بنیاد پر ملزمان کو سزائے موت سنائی، تاہم اپیل کے دوران اعلیٰ عدالت نے جب شہادت کا باریک بینی سے جائزہ لیا تو استغاثہ کے مقدمے میں موجود خامیاں نمایاں ہوگئیں۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سزائے موت کے مقدمات میں تفتیشی افسر اور پراسیکیوٹر کے درمیان ابتدائی مرحلے سے مؤثر رابطہ انتہائی ضروری ہے۔ تفتیش مکمل ہونے اور چالان عدالت میں جمع ہونے سے پہلے پراسیکیوشن کی جانب سے قانونی اور شہادتی خامیوں کی نشاندہی کی جائے تو مقدمے کو زیادہ مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پولیس اور پراسیکیوشن کو صرف مقدمہ درج کرنے یا ملزم کو گرفتار کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ مقدمے کے حتمی فیصلے تک اس کی مؤثر نگرانی ہونی چاہیے۔ تفتیشی افسر اور پراسیکیوٹر کے درمیان مربوط حکمت عملی کے ذریعے شواہد، گواہان اور قانونی نکات کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔قتل کے مقدمات میں سزائے موت پانے والے ملزمان کی ہائیکورٹ سے بریت کے بڑھتے ہوئے واقعات نے پولیس تفتیش اور پراسیکیوشن کے نظام پر اہم سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر ٹرائل کورٹ میں پیش کیے گئے مقدمات اپیل کے مرحلے پر تفتیشی اور شہادتی خامیوں کے باعث برقرار نہیں رہتے تو ان خامیوں کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی اور سنگین مقدمات کی تفتیش و پراسیکیوشن کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام کب وضع کیا جائے گا؟ماہرین کے مطابق ملزم کو شک کا فائدہ دینا قانون کا بنیادی اصول ہے، تاہم ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ سنگین جرائم کے مقدمات میں تفتیش اور پراسیکیوشن اس معیار کے مطابق کی جائے کہ عدالت کے سامنے قابل اعتماد، مربوط اور قانونی طور پر مضبوط شواہد پیش کیے جاسکیں۔

Ansa Awais

Content Writer