سٹی42:آئی ایس پی آر نےواضح کیا ہے کہ ریاست اور عوام کو ایسے شخص کے فیصلے اور خواہش پر نہیں چھوڑ ا جا سکتا جو خیبرپختونخوا میں دہشت گردی واپس لانے کا اکیلا ذمہ دار ہو۔
آئی ایس پی آڑ کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے فتنہ الہندوستان اور دیگر دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی بقا کی جنگ کے بہر صورت جاری رہنے کی صراحت کے ساتھ وضاحت کی اور اس موضوع پر کنفیوژن پھیلانے والوں کی مذمت کی۔
دس ماہ میں دہشتگردی کے چار ہزار واقعات
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان نے بتایا 2025 میں خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے 3 ہزار 984 واقعات ہوئے ہیں۔ جنرل احمد شریف نے سوال کیا، دہشت گردی کے 70 فیصد واقعات خیبرپختونخوا میں ہی کیوں ہوئے۔
جنرل احمد شریف نے مزید کہا، " کون ہے وہ شخص جو یہ کہہ رہا ہے کہ آپریشن بند کریں اور بات چیت کریں. کون ہے وہ جو کہہ رہا ہے کہ اسے اپنی وہ صوبائی حکومت برداشت نہیں جو (دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کےقومی اتفاق رائے سے کئے جا رہے) آپریشن کے خلاف کھڑی نہ ہو۔"
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بات چیت کس سے کریں۔ انہوں نے کہا," کیا خوارجی دہشتگرد نورولی محسود اور اس کے جتھے سے بات چیت کریں۔"
پختونخوا میں جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
عوام کو کنفیوژ کیا جا رہا ہے
جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا، لوگوں کو کنفیوژ کیا جارہا ہے کہ دہشت گردی کے مسئلے کا حل آپریشن کرنے میں نہیں ہے، یہ کہتے ہیں کہ بچوں کے سرکاٹ کر فٹ بال کھیلنے والوں سے "بات چیت" کریں.
جنرل احمد شریف نے واضح کیا، " ریاست اور عوام کو ایسے شخص کے فیصلے اور خواہش پر نہیں چھوڑ سکتے جو کے پی میں دہشت گردی واپس لانے کا اکیلا ذمہ دار ہو ۔"
انہوں نے کہا، خارجیوں کے سہولت کاروں سے آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے گا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سندھ اور پنجاب میں گورننس قائم ہے، وہاں کی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارےکام کررہےہیں۔
دہشتگردی ختم کرنے کی بجائے صوبائیت کا پرچار
انہوں نے کہا کہ سندھ اور پنجاب میں پولیٹیکل ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ آپریٹ نہیں کررہا، خیبرپختونخوا میں کیا ہورہا ہے، یہاں پر بجائے اس کے کہ دہشت گردی کو پرفارمنس، گورننس اور قانون کی عمل داری سے ختم کیا جائے، اس کو صوبائیت کا رنگ دیا جارہاہے اور اس پر سیاست کی جارہی ہے، کیا یہ بذات خود مجرمانہ عمل نہیں ہے؟
مجرمانہ بیانیئے کی بھاری قیمت بچے بچیاں دےرہے
جنرل احمد شریف نے مزید کہا کہ کون ہے جو کہتا ہے کہ "پاکستان کی سکیورٹی کی گارنٹی کابل دے گا"، اس مجرمانہ بیانیے کی قیمت فوج، پولیس، بچے اوربچیاں ادا کررہےہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ان سے پوچھیں کہ آپ ہماری جان اور عزت پر سیاست کیوں کررہےہیں، ان سے پوچھیں کہ آپ دہشت گردی کے بیانیے کو کیوں سپورٹ کررہےہیں۔
خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے پیچھے سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے وضاحت کے ساتھ بتایا کہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے پیچھے سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے۔
جنرل احمد شریف چوہدری نے پشاور کے صحافیوں کو بتایا کہ میرے یہاں آنے کا مقصد کے پی کے غیور عوام کے درمیان بیٹھ کر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبے کے عوام کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے۔
اس سال دس سال میں سب سے زیادہ خارجی مارےگئے
جنرل شریف نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں 14500 سے زائد آپریشنز کیے گئے، رواں سال مارے جانے والے خارجیوں کی تعداد پچھلے 10 سال سے زیادہ ہے، وہ کون سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے دہشتگردی موجود ہے، سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو اسپیس دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پاک فوج دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے، ہم سب کو ملکر دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنا ہے۔
افغانستان میں امریکی انخلا کے بعد ہتھیاروں کا بڑا حصہ دہشتگردوں کے ہاتھ لگا
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ 2014 میں آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے حملے کے بعد سیاسی و ملٹری لیڈر شپ نے ایک مشترکہ نیشنل ایکشن پلان مرتب کیا، دہشت گردی میں اضافے کی وجوہات نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل درآمد نہ ہونا ہے۔
افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں موجود ہیں اور دہشتگردوں کو بھارت کی پشت پناہی حاصل ہے، بھارت کا افغانستان کو دہشت گردی کے بیس کے طور پر استعمال کرنا بھی دہشت گردی کی ایک بڑی وجہ ہے، افغانستان میں امریکی انخلا کے بعد چھوڑےگئے ہتھیاروں کا بڑا حصہ دہشتگردوں کے ہاتھ لگا۔
ہر مسئلے کا حل بات چیت ہوتی تو پھر جنگیں کبھی نہ ہوتیں
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کیا ہر مسئلے کا حل بات چیت میں ہے، اگر ایسا ہوتا تو پھر جنگیں کبھی نہ ہوتیں، اگر بات چیت سے ہی معاملات حل ہوتے تو غزوہ بدر میں سرور کونین ﷺ کبھی جنگ نہ کرتے، دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے کا فیصلہ سیاستدانوں اور قبائلی عمائدین نے ملکر کیا۔
ترجمان نے کہا آپ لوگ کہتے ہیں کہ دہشت گردی ختم کیوں نہیں ہو رہی، 2014 اور 2021 میں یہ فیصلہ ہوا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پولیس کو مضبوط کیا جائے گا اور کاؤنٹرر ٹیرر ازم ڈپارٹمنٹ کو مضبوط کیا جائے گا، ہم کے پی کی بہادر پولیس کو سلام پیش کرتے ہیں لیکن آپ نے ان کی تعداد صرف 3200 رکھی ہوئی ہے۔
گورننس کا خلا ہمارے خون سے پر ہو رہا ، سیاست ریاست سے بڑی نہیں
جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا، خیبر پختونخوا میں گورننس کے خلا کو ہمارے سکیورٹی فورسز کے جوان اپنے خون سے پورا کر رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے لیکن کسی فرد واحد کو یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ اپنی ذات کے لیے ریاست اور پاکستانی عوام کے جان، مال اور عزت کا سودا کرے، کوئی فرد واحد یہ سمجھتا ہےکہ اسکی سیاست ریاست سے بڑی ہے تو یہ ہمیں قبول نہیں ہے۔
جنرل احمد شریف نے کہا، "تمام سیاستدان قابل احترام ہیں لیکن اگر کوئی فرد واحد سججھتا ہے کہ اس کی سیاست ریاست سے اوپر ہے تو یہ قابل قبول نہیں. ہمیں اپنی سیاست میں نہ لائیں، فوج کو گھٹیا بیان بازی اور گمراہ کن پروپیگنڈے سے دور رکھیں۔"
دہشتگردوں کے معاونوں پر زمین تنگ کر دیں گے
انہوں نے کہا چاہے وہ کوئی بھی ہو، کسی بھی عہدے پر ہو، اگر وہ دہشتگردوں کی سہولت کاری یا معاونت کر رہا ہے تو اس کےلیے زمین تنگ کر دی جائے گی کیونکہ پاکستانی قوم سیسہ پلائی دیوار بن کر ایک بنیانُ مرصوص کی طرح دہشتگردوں اور اُن کے سہولت کاروں کےخلاف کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی۔
جنرل احمد شریف نے کہا، "ہم نے کئی دہائیوں تک افغان بھائیوں کی مہمان نواز کی. افغان مہاجرین کے حوالے سے گمراہ کن باتیں کی جا رہی ہیں. ریاست نے افغان مہاجرین کی واپسی کو فیصلہ کیا اس پر سیاست کی جاتی ہے اور بیانیہ بنایا جاتا ہے، افغان مہاجرین کی واپسی کے معاملے کو بھی سیاسی رنگ دیا گیا، آج یہ بیانیہ کہاں سے آگیا کہ افغان مہاجرین کو واپس نہیں بھیجنا۔"
پاک فوج کے ترجمان نے اپنی مفصل گفتگو میں مزید کہا دہشتگردی میں ہلاک ہونے والے بہت سے خوارج کا تعلق افغانستان سے ہے۔ آپریشن میں ہلاک ہونے والے بہت سے دہشتگردوں سے امریکی اسلحہ برآمد ہوا۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے جس کے شواہد اور ثبوت بھی موجود ہیں۔ ہم نے ہر فورم پر اس حوالے سے آواز اٹھائی اور بات چیت بھی کی گئی۔
عوام کے جان مال کی حفاظت کیلئے جو ضروری اقدامات چاہئیں، وہ کیے جائیں گے
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا، اب اسٹیٹس کو نہیں چلے گا، جو شخص یا گروہ کسی مجبوری یا فائدے کی وجہ سے خارجیوں کی سہولت کاری کر رہا ہے اس کے پاس اب صرف تین چوائسز ہیں۔
سہولت کاری کرنے والا خود خوارجیوں کو ریاست کے حوالے کردے۔
دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں ریاستی اداروں کے ساتھ مِل کراس ناسور کو اپنے انجام تک پہنچائے۔
اگریہ دونوں کام نہیں کرنے تو خارجیوں کے سہولت کار ریاست کی طرف سے ایکشن کے لیے تیار رہیں۔
ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ افغانستان سے صرف ایک مطالبہ ہے کہ افغانستان کو دہشتگردوں کی آماجگاہ نہ بننے دیں، ہمارے وزراء بھی وہاں گئے اور انہیں بتایا کہ دہشتگردوں کے سہولتکار وہاں موجود ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان کے عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لیے جو ضروری اقدامات کیے جانے چاہئیں وہ کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کیے جائیں گے، اس حوالے سے کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔