ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بہار کے ریاستی الیکشن کا پہلا مرحلہ آج آغاز ہو گیا

Bihar Assembly Election, India's politics, Pakistan India tension, Patna, First Phase of Election, Poling Day
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: بھارت کی ریاست بہار کے ریاستی الیکشن کا پہلا مرحلہ آج آغاز ہو گیا؛  18 اضلاع کی 121 ریاستی اسمبلی نشستوں پر 6 نومبر کو ووٹنگ ہوگی۔دوسرے مرحلے کی ووٹنگ 11 نومبر کو  ہوگی۔ اس الیکشن کی خاص بات یہ ہے کہ الیکشن سے پہلے بھارت کی حکومت پاکستان کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کے لئے کوئی بھی مہم جوئی کر سکتی ہے۔

بہار اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیےامیدواروں کی نامزدگیاں شروع ہو گئی ہیں۔ 18 اضلاع کی 121 نشستوں پر 6 نومبر کو  پولنگ ہوگی۔ 
ریاستی اسمبلی کے الیکشن کے پہلے مرحلے میں بہار کے  18 اضلاع کی 121 اسمبلی نشستوں پر امیدوار آج سے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کر سکتے ہیں۔ نامزدگیوں کی آخری تاریخ 17 اکتوبر مقرر کی گئی ہے، جس کے بعد جانچ اور واپسی کے مراحل ہوں گے۔ 6 نومبر کو الیکشن ہوں گے جن میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی مقامی اتحادی کی ریاست میں حکومت جاری رہنے یا ختم ہو جانے کا فیصلہ ہو گا۔ 

بہار کے ریاستی الیکشن اور پاکستان

عام تاثر یہ ہے کہ بھارت کی ہندوتوا کی پرچارک مرکزی حکومت بہار میں ریاستی اسمبلی کے الیکشن میں عوام کی دلچسپی کے اصل موضوعات سے توجہ ہٹانے اور ہندو مذہب کے پیروکاروں پر نفسیاتی اثر ڈال کر ان سے جبراً ووٹ لینے کے لئے الیکشن سے پہلے پاکستان کے ساتھ کشیدگی جان بوجھ کر بڑھا رہی ہے۔  

پاکستان ہی نہیں بھارت کے اندر بھی یہ تاثر عام ہے کہ  کسی بھی الیکشن سے پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی ہندو ووٹروں کو  اکسانے کے لئے پاکستان کے ساتھ کشیدگی پیدا کرتی ہے اور بھارت کے مسلم شہریوں کے ساتھ کسی نہ کسی بہانے فساد کرنے کی سازشیں کرتی ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی اور اتحادی حکمران پارٹی کی غیر مقبولیت

بہار ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی مقامی اتحادی حکومت اپنی گزشتہ پانچ سال کی ناقص حکومت اور  بدعنوانیوں میں لتھڑے ہونے کی وجہ سے غیر مقبولیت کی انتہا پر تھی، گزشتہ کئی مہینوں کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی حکومت نے اپنی پرانی پالیسی کو دہرایا اور پاکستان کے ساتھ زبردستی کشیدگی پیدا کر کے براہ راست جنگ ہی چھیڑ ڈالی۔ چھ مئی  کو آدھی رات سے دس مئی کی صبح تک جاری رہنے والی اس جنگ میں بھارت کو  ہر محاذ پربہت الم ناک شکستوں کا سامنا کرنا پڑا  اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کو اپنے داخلی پروپیگنڈا کے محاذ پر لینے کے دینے پڑ گئے۔

دائمی مریض پھر  پاکستان کےساتھ شرارت کرے گا

 اب جب کہ ریاست بہار میں الیکشن سر پر ہیں تو بھارت کی مرکزی حکومت ایک بار پھر پاکستان کی طرف سے کسی اشتعال کے بغیر ہی مشتعل ہوئی پھرتی ہے اور پاکستان سے مئی کی جنگ میں شکست کا بدلہ لینے کی دھمکیاں دے دے کر کشیدگی کو ہوا دے رہی ہے۔

بھارت کے الیکشن کمیشن کے مطابق،  بہار ریاستی اسمبلی کے الیکشن کے پہلے مرحلے میں جو اضلاع شامل ہیں ان میں گوپال گنج، سیوان، سارن، مظفرپور، ویشالی، دربھنگہ، سمستی پور، سہرسا، کھگڑیا، بیگوسرائے، منگیر، لکھی سرائے، شیخ پورہ، نالندہ، پٹنہ، بھوجپور اور بکسر شامل ہیں۔ یہ تمام علاقے شمالی بہار اور مگدھ خطے سے تعلق رکھتے ہیں۔
ریاستی اسمبلی کےانتخابات دو مراحل میں ہوں گے۔ پہلے مرحلے کی ووٹنگ 6 نومبر کو ہوگی جبکہ دوسرے مرحلے کے لیے پولنگ 11 نومبر کو مقرر ہے۔ انتخابات کے دونوں مرحلوں میں پڑے ووٹوں کی گنتی دوسرے مرحلہ کی ووٹنگ کے بعد ایک ہی بار ہو گی اور  نتائج 14 نومبر 2025 کو جاری کیے جائیں گے۔

 الیکشن کمیشن نے بتایا کہ ریاست کی کل 243 اسمبلی نشستوں پر مرحلہ وار ووٹنگ ہوگی تاکہ انتظامی اعتبار سے بہتر نگرانی ممکن بنائی جا سکے۔

پہلے مرحلے میں سہرسا، دربھنگہ، مظفرپور، گوپال گنج، سیوان، ویشالی، بیگوسرائے، کھگڑیا، نالندہ اور پٹنہ صاحب جیسی متعدد اہم اور سیاسی طور پر حساس نشستیں شامل ہی۔ ان حلقوں پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نشستیں اس بار ریاستی انتخابات میں عوام کے رجحان کا رخ طے کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔

پہلے مرحلے میں کچھ نشستیں محفوظ زمرے میں آتی ہیں، جن میں سنگھیشور، سونبرسا، بکھری، راجگیر، پھلواری، مسوڑھی اور اگیاؤں شامل ہیں۔ یہ نشستیں دلت اور پسماندہ طبقات کی نمائندگی کے لیے مخصوص کی گئی ہیں۔

الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق، ووٹرز لسٹ میں نام جوڑنے یا حذف کرنے کے لیے اب تک کوئی نیا دعویٰ یا اعتراض درج نہیں کیا گیا ہے۔ 9 اکتوبر تک ایسی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔ اس کے باوجود کمیشن نے اضلاع کے الیکشن افسروں کو ہدایت دی ہے کہ اگر کوئی نیا دعویٰ سامنے آئے تو فوری کارروائی کی جائے تاکہ کوئی ووٹر اپنے حقِ رائے دہی سے محروم نہ رہے۔
 بہار اسمبلی انتخاب اور ضمنی انتخابات کے لیے 8.5 لاکھ افسران کو ڈیوٹی دی جائے گی۔
پٹنہ، نالندہ اور دربھنگہ جیسے اضلاع میں سیاسی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ مختلف پارٹیوں نے اپنے امیدواروں کے انتخاب پر غور شروع کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس بار امیدواروں کا انتخاب برادریوں کی انتخابی حکقوں میں طاقت، امیدواروں کی ان طاقتور برادریوں میں انفرادی طاقت اور مقامی مسائل کی بنیاد پر زیادہ کیا جا رہا ہے۔

سیاسی جماعتوں نے اپنی ابتدائی میٹنگوں میں عوامی مسائل، روزگار، تعلیم اور بنیادی سہولیات جیسے موضوعات کو مرکزی نکتہ بنانے پر زور دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ 2025 کے یہ انتخابات ریاست کی نئی سیاسی سمت طے کریں گے، کیونکہ کئی پرانے اتحاد ٹوٹ چکے ہیں اور نئے اتحاد وجود میں آ رہے ہیں۔

الیکشن سے پہلے ووٹر لسٹوں کی مینیپولیشن

بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن پر مسلسل یہ الزام لگایا  جا رہا ہے کہ وہ الیکشن میں دھاندلی کے لئے گٹھ جوڑ کئے ہوئے ہیں۔ بہار اسمبلی کے الیکشن سے پہلے ریاست کے ووٹروں کی لسٹوں میں بہت بڑے پیمانہ پر صفایا ہوا اور لاکھوں  ووٹوں  کو لسٹوں سے نکال دیا گیا جن میں سے اکثر مسلمانوں کے ووٹ بتائے گئے ہیں۔ 

مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے فیس لِفٹِنگ اقدامات

بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس انتخاب سے پہلے اپنی تباہ حال پوزیشن کو بہتر بنانے کی خاطر جنرل سیلز ٹیکس کی ریجیم بدل ڈالی جس سے  بہت سی اشیائے ضروریہ پر ٹیکس کم ہوا، اشیا کی قیمتیں کم ہوئیں،  ریاستی حکومت نے لوگوں میں بہانے بہانے سے پیسہ بانٹنا شروع کر رکھا ہے لیکن لوگوں کو غربت، بے روزگاری، معاشی بدحالی کے لگائے ہوئے زخم زیادہ گہرے ہیں۔ غیر جانبدار تجزیہ نگار جو بھارت میں انتہائی کم یاب ہیں، وہ اس الیکشن میں کسی انہونی کو ہوتا دیکھ رہے ہیں۔