ویب ڈیسک: سعودی عرب نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو سہولت دینے کے لیے اہم اصلاحات کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد نجی شعبے کو مزید مضبوط اور سرمایہ کار دوست بنانا ہے۔
سعودی عرب میں حکومت نے چھوٹے کاروباروں کے لیے مکتبِ عمل فیس میں نرمی اور بعض صورتوں میں مکمل معافی کی نئی پالیسی متعارف کرائی ہے۔ 2026 کے دوران نافذ ہونے والی ان اصلاحات کا مقصد کاروباری ماحول کو بہتر بنانا اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کرنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وہ ادارے جن میں 9 یا اس سے کم ملازمین کام کر رہے ہوں، انہیں غیر ملکی ورکرز کی مکتبِ عمل فیس میں رعایت دی جا سکتی ہے۔ اسی طرح اگر کسی ادارے کا کفیل جنرل سوشل انشورنس ادارے (GOSI) میں رجسٹرڈ ہو اور کسی دوسری کمپنی میں ملازمت نہ رکھتا ہو تو وہ دو غیر ملکی ملازمین کی فیس سے مکمل استثنیٰ حاصل کر سکتا ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ اگر کسی ادارے میں ایک سعودی ملازم بھی موجود ہو تو فیس سے مستثنیٰ غیر ملکی ملازمین کی تعداد چار تک بڑھائی جا سکتی ہے۔
حکام کے مطابق فی غیر ملکی ملازم مکتبِ عمل فیس تقریباً 800 سعودی ریال ماہانہ جبکہ سالانہ تقریباً 9600 سعودی ریال بنتی ہے۔ تاہم واضح کیا گیا ہے کہ یہ سہولت صرف اسی فیس تک محدود ہے، جبکہ اقامہ، انشورنس اور دیگر سرکاری اخراجات بدستور ادا کرنا ہوں گے۔
حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ قوانین اور شرائط وقت کے ساتھ تبدیل ہو سکتی ہیں، اس لیے تازہ ترین معلومات کے لیے قیوا پلیٹ فارم سے رجوع کیا جائے۔