ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پولیس حراست میں تشدد اور ہلاکت کیس ، لاء افسران سے مشترکہ لائحہ عمل طلب

پولیس حراست میں تشدد اور ہلاکت کیس ، لاء افسران سے مشترکہ لائحہ عمل طلب
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں پولیس حراست میں تشدد اور ہلاکت کے کیس میں دو ایف آئی آرز درج ہونے کا معاملہ، عدالت نے وفاقی و پنجاب حکومت کے لاء افسران سے مشترکہ لائحہ عمل طلب کر لیا۔

لاہور ہائیکورٹ میں پولیس حراست میں ملزمان پر تشدد اور ہلاکت کے ایک ہی واقعہ پر دو مختلف ایف آئی آرز درج ہونے سے متعلق اہم کیس کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے وفاقی اور پنجاب حکومت کے لاء افسران کو معاملے کا تفصیلی جائزہ لے کر حتمی قانونی رائے سے آگاہ کرنے کی ہدایت کر دی۔کیس کی سماعت تین رکنی بینچ نے کی جس کی سربراہی جسٹس فاروق حیدر نے کی، جبکہ بینچ میں جسٹس علی ضیاء باجوہ اور جسٹس سلطان تنویر احمد بھی شامل تھے۔ عدالت ملزم محمد اجمل کی درخواست ضمانت پر سماعت کر رہی تھی۔

سماعت کے دوران وفاق کی جانب سے ایڈیشنل  اٹارنی جنرل نصر احمد مرزا  اور ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد علی باجوہ  عدالت میں پیش ہوئے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے  ایڈووکیٹ جنرل امجد پرویز  اور  پراسیکیوٹر جنرل سید فرہاد  علی شاہ سمیت دیگر لاء افسران پیش ہوئے ،سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نصر احمد مرزا  اور ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد علی باجوہ نے عدالت کو بتایا کہ پولیس حراست و تشدد ایکٹ 2022 کے تحت قواعد (رولز) نوٹیفائی ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کو پڑھتے وقت ضابطہ فوجداری کی متعلقہ دفعات کو بھی ساتھ ملا کر دیکھنا ضروری ہوگا تاکہ قانونی تشریح میں ابہام دور کیا جا سکے۔

عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل، ایڈوکیٹ جنرل پنجاب اور پراسیکیوٹر جنرل باہمی مشاورت سے اس معاملے کا جامع جائزہ لیں اور عدالت کو واضح قانونی مؤقف سے آگاہ کریں۔بینچ نے ہدایت کی کہ وفاق اور پنجاب حکومت کے لاء افسران آئندہ سماعت پر مشترکہ لائحہ عمل اور قانونی رائے کے ساتھ عدالت میں پیش ہوں۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت اگلے منگل تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ اس دوران متعلقہ حکام معاملے کا مکمل جائزہ لے کر عدالت کو آگاہ کریں۔ کیس کی مزید سماعت 17 مارچ کو ہوگی۔

Ansa Awais

Content Writer