ویب ڈیسک: پاکستان کی کم عمر نوبیل انعام یافتہ اور خواتین و تعلیم کے حقوق کی علمبردار ملالہ یوسفزئی نے اقوامِ متحدہ میں خواتین اور بچوں کے لیے مساوی انصاف کے حصول پر زور دیا۔
انہوں نے اقوامِ متحدہ کمیشن برائے خواتین کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی سطح پر خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کی ضرورت پر بات کی۔
ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ انسانی حقوق کسی ملک کی جغرافیائی حیثیت یا سیاسی مفادات پر منحصر نہیں ہونے چاہئیں اور ہر شخص کو دنیا کے کسی بھی کونے میں رہنے کے باوجود برابر کے حقوق حاصل ہونے چاہیے۔
انہوں نے ایرانی شہر میناب میں کمسن طالبات کے اسکول پر مبینہ فضائی حملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا، جس میں طالبات اور اساتذہ سمیت 175 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ملالہ یوسفزئی نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ بچوں کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ غزہ، افغانستان اور ایران میں صنفی امتیاز کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور انسانیت کے خلاف جرم کے طور پر تسلیم کیا جائے اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مزید مضبوط اقدامات کیے جائیں۔
واضح رہے کہ حال ہی میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے لیڈی مارگریٹ ہال میں سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے بعد ملالہ یوسفزئی کی تصویر بھی آویزاں کردی گئی ہے۔
ملالہ کی تصویر لیڈی مارگریٹ ہال میں لگانے کے حوالے سے خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں ماہرین تعلیم کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔
اس حوالے سے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ تمام ممالک کو طالبان پر دباؤ ڈالنا چاہیے اور ان کے ساتھ معمول کے تعلقات نہیں رکھنے چاہیں۔