ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

منشاء بم اور اس کی فیملی کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے سے متعلق دائر توہینِ عدالت کی درخواست خارج

 منشاء بم اور اس کی فیملی کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے سے متعلق دائر توہینِ عدالت کی درخواست خارج
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے منشاء بم اور اس کی فیملی کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے سے متعلق دائر توہینِ عدالت کی درخواست خارج کر دی۔ عدالت نے تقریباً سات سال سے زیر التوا درخواست کو نمٹاتے ہوئے کیس ختم کر دیا۔ 

چیف جسٹس   لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے شہری ملک طارق کی درخواست پر  سماعت کی۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پولیس نے مبینہ طور پر منشاء بم اور اس کے اہلِ خانہ کو ہراساں کیا اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی۔درخواست گزار نے 2018 میں سابق ایس پی صدر معاذ ظفر کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی تھی جبکہ سابق ایس ایچ او تھانہ ٹاؤن شپ  ریحان ظفر کو بھی اس درخواست میں فریق بنایا گیا تھا۔سماعت کے دوران ایس پی آپریشنز صدر رانا حسنین طاہر عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ان کے ہمراہ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب  وقاص عمر بھی موجود تھے۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ معاملہ کیا ہے۔ اس پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل وقاص عمر نے عدالت کو بتایا کہ یہ مبینہ ہراسگی سے متعلق معاملہ ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ دراصل پراپرٹی سے متعلق کیس معلوم ہوتا ہے۔اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل وقاص عمر نے عدالت میں پولیس کی جانب سے جمع کرایا گیا جواب پڑھ کر سنایا۔ جواب سننے کے بعد عدالت نے پولیس کے مؤقف پر اطمینان کا اظہار کیا اور سابق ایس پی صدر کے خلاف دائر توہینِ عدالت کی درخواست خارج کر دی۔

Ansa Awais

Content Writer