ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ اپنے اختتامی مرحلے کے قریب پہنچ چکی ہے اور امریکا اس تنازع میں فیصلہ کن کامیابی حاصل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ ان کے مطابق امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی بڑی حد تک فوجی صلاحیت متاثر ہو چکی ہے۔
ری پبلکن ارکان سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر امریکا بروقت کارروائی نہ کرتا تو ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے قریب پہنچ سکتا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ حملوں کے بعد ایران کی تقریباً 90 فیصد جنگی صلاحیت ختم ہو چکی ہے اور اس وقت اس کے پاس مؤثر فضائیہ، بحریہ یا مضبوط مواصلاتی نظام موجود نہیں رہا۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران میں ممکنہ متبادل قیادت کے حوالے سے ان کے ذہن میں ایک نام موجود ہے، تاہم فی الحال وہ اس کا اعلان نہیں کرنا چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا آج پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور مستحکم ہے اور امریکی فوج کی طاقت کا مقابلہ کرنا کسی بھی ملک کے لیے آسان نہیں۔
ٹرمپ کے مطابق امریکی افواج نے ایران کے میزائل لانچرز کو نشانہ بنانے کے لیے دو ہزار پاؤنڈ وزنی بم استعمال کیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ کے 51 جنگی جہاز تباہ کر دیے گئے ہیں اور ڈرون بنانے والی تنصیبات کو بھی ہدف بنایا جا رہا ہے۔ ان کے بقول حالیہ کارروائیوں کے بعد ایران کی میزائل سازی کی صلاحیت محض دس فیصد تک محدود رہ گئی ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکا ایران میں ایسی قیادت دیکھنا چاہتا ہے جو عالمی امن اور استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگی کارروائیاں طے شدہ حکمت عملی سے بھی زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران میں گزشتہ کئی دہائیوں سے عوام پر ظلم کیا جا رہا ہے۔
خطاب کے دوران ٹرمپ نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کو خطے کے مضبوط اور سمجھدار اتحادی قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کرنے کی کوشش کی تو اسے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہیں مکمل یقین تھا کہ ایران امریکا پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔