سید زبیر راشد : پنجاب کے تمام 9 تعلیمی بورڈز کے چیئرمینوں پر مشتمل بورڈ کمیٹی نے امتحانی نظام میں بڑی اصلاحات کی منظوری دے دی ہے، جن کا مقصد امتحانی عمل کو جدید، شفاف اور قابلِ اعتماد بنانا ہے۔
اصلاحات کے تحت میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات میں روایتی دستی چیکنگ اور نگرانی کے طریقہ کار کو مرحلہ وار ختم کیا جا رہا ہے۔ کمیٹی کے مطابق اب امتحانی نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنیادوں پر استوار کیا جائے گا۔
نئی پالیسی کے مطابق نہم اور گیارہویں جماعت سے طلبہ کی بائیومیٹرک رجسٹریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس میں طلبہ کے انگوٹھوں کے نشانات شامل کیے جا رہے ہیں۔ امتحانی مراکز میں داخلے کے لیے بھی بائیومیٹرک تصدیق کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
اسی طرح میٹرک اور انٹر کے امتحانات میں جوابی کاپیوں کی دستی چیکنگ ختم کر کے مکمل ڈیجیٹل مارکنگ سسٹم نافذ کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس نظام کے تحت جوابی کاپیاں اسکین کر کے کمپیوٹر اسکرین پر چیک کی جائیں گی، جس سے غلط مارکنگ اور حسابی غلطیوں کے خاتمے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
بورڈ کمیٹی نے سائنس کے پریکٹیکل امتحانات کو بھی مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ عملی امتحانات کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔