ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

فلسطینی اتھارٹی ٹیررزم میں ملوث فلسطینیوں کے  سرکاری وظیفے بند کر  دے گی

Palestinian Authority, Mahmood Abbas, Palestinians involved in Terrorism, terrorists' families
کیپشن: فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی  31 مارچ 2024 کو رملہ میں لی گئی یہ تصویر اے ایف کی کے جعفر اشتیح نے بنائی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  فلسطینی اتھارٹی دہشتگردی میں ملوث تمام فلسطینیوں کے وظیفے بند کر رہی ہے۔  فلسطینی اتھارٹی کے ایسے وظیفوں کو ناقدین نے 'پے ٹو سلے' کا نام دیا ہوا ہے۔


واشنگٹن  میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک قریبی ذریعہ نے یہ انکشاف کیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے سینیئر معاونین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلیٰ مشیروں کو بتایا کہ رملہ میں فلسطینی اتھارٹی  اپنے فلاحی نظام میں اصلاحات کے لیے تیار ہے۔ ان اصلاحات میں سزا یافتہ دہشت گردوں اور مقتول حملہ آوروں کے اہل خانہ کو اب تک دی جا رہی امداد کو منسوخ کرنا شامل ہے۔  ایک فلسطینی ذریعہ اور اس معاملے سے واقف ایک مغربی سفارت کار نکے حوالے سے یہ اطلاعات نیوز آؤٹ لیٹ دی ٹائمز نے پبلش کی ہیں۔

ٹائم آف اسرائیل نے بتایا کہ ذرائع نے چینل 12 کی پہلے شائع ہو چکی رپورٹ کی تصدیق کی ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی تبدیل شدہ پالیسی میں فلاحی وظیفے کی بنیاد رکھی جائے گی جو فلسطینی سیکیورٹی قیدیوں کو ان کی سزا کی مدت کے بجائے وصول کنندہ کی مالی ضرورت پر ملے گا، جیسا کہ اس وقت ہے۔

دو ذرائع کا کہنا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کے خاتمے کے دوران  فلسطینی اتھارٹی اپنی ان اصلاحات کو اپنے آخری مراحل میں آگے بڑھا رہی تھی لیکن اتھارٹی نے بالآخر اس منصوبے کا اعلان کرنے سے  خود کو روک دیا، بجائے اس کے کہ اس کے رول آؤٹ کو ٹرمپ انتظامیہ کے لیے خیر سگالی کے اشارے کے طور پر پیش کرنے کو ترجیح دی جائے۔

اب فلسطینی اتھارٹی کے حکام نے ٹرمپ کے ہم منصبوں کو اس تجویز سے آگاہ کیا، لیکن یہ اس سے پہلے ہوا جب صدر  ٹرمپ نے غزہ پر قبضے کے لیے امریکہ کے لیے اپنا منصوبہ جاری کیا - غزہ سے تمام آبادی کو تعمیرِ نو کے نام سے منتقل کرنے کا منصوبہ  ایک ایسا خیال  ہے جو ممکنہ طور پر رملہ ( فلسطینی اتھارٹی کا ہیڈکوارٹر)اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان کشیدگی کو دوبارہ بھڑکا دے گا،  صدر محمود عباس کی اتھارٹی کے صدر ٹرمپ کے ساتھ روابط ٹرمپ کی پہلی مدت کے دوران  بھی کشیدہ تھے۔