(ویب ڈیسک)آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں پیر کے روز اضافہ دیکھا گیا۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ عمان کے ساتھ نئی بحری گزرگاہوں کے تعین سے متعلق معاہدہ حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے، تاہم تہران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کھولنے سے قبل امریکا کو ایران کی جانب سے پیش کردہ دیگر شرائط بھی پوری کرنا ہوں گی۔
گرین وچ مین ٹائم کے مطابق برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 91 سینٹ، یعنی 1.09 فیصد اضافے کے بعد 84.46 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت 61 سینٹ، یعنی 0.78 فیصد اضافے کے ساتھ 78.79 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
دونوں اہم بینچ مارک گزشتہ ہفتے 7 فیصد سے زیادہ گر گئے تھے، کیونکہ یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ ایران اور عمان کے درمیان معاہدہ طے پانے کے بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا، جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل کی ترسیل اسی اہم آبی گزرگاہ سے ہوتی تھی۔
ایرانی حکام نے اتوار کو تصدیق کی کہ عمان کے ساتھ معاہدہ ’’حتمی مراحل‘‘ میں ہے، تاہم تہران نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھولا جائے گا جب تک واشنگٹن دیگر شرائط پوری نہیں کرتا۔ ان شرائط میں ایران پر ہونے والے وسیع حملوں کے عوض امریکی معاوضہ بھی شامل ہے۔
کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹم واٹرر کے مطابق مذاکرات میں بار بار اتار چڑھاؤ کے باعث تاجروں کو اب کسی حتمی پیش رفت کے شواہد کا انتظار ہے، جن میں تصدیق شدہ بحری جہازوں کی آمدورفت یا باضابطہ معاہدے شامل ہیں، تاکہ تیل کی قیمتوں میں شامل خطرے کے اضافی پریمیم میں مزید کمی ہو سکے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اتوار کو کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے اور تہران اس وقت تک مذاکرات شروع نہیں کرے گا جب تک واشنگٹن جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کی خلاف ورزی ختم نہیں کرتا۔
دوسری جانب خطے میں تیل کی سپلائی کو ایک اور خطرہ لاحق ہوگیا ہے، سعودی عرب میں ہفتے کے اختتام پر ایک آئل تنصیب کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران سے منسلک حوثی گروپ نے اتوار کو سعودی آرامکو کی جازان ریفائنری پر حملے کا دعویٰ کیا، تاہم حملے کی مکمل تفصیلات اور اثرات کے حوالے سے صورتحال زیرِ نگرانی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب نے بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے تناظر میں ترکی اور پاکستان کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی کیا ہے۔
ادھر متحدہ عرب امارات کی سرکاری تیل کمپنی ADNOC نے جمعہ کو بتایا تھا کہ تنازع شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اس کے 15 بحری جہازوں کو حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے، جس سے خطے میں توانائی کی ترسیل اور عالمی تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔