ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے ملزم شہزاد احمد کی اپیل منظور کرتے ہوئے سیشن کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور ملزم کو مقدمے کے تقریباً 7 سال بعد بری کرنے کا حکم دے دیا۔
جسٹس شہرام سرور چوہدری اور جسٹس سردار اکبر علی ڈوگر پر مشتمل لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے ملزم شہزاد احمد کی جانب سے دائر بریت کی اپیل پر فیصلہ سنایا۔مقدمے کے مطابق ملزم شہزاد احمد پر قتل کا الزام عائد کیا گیا تھا، جس پر ٹرائل کورٹ نے مقدمے کی سماعت مکمل کرنے کے بعد اسے جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی تھی۔ ملزم نے سزائے موت کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔
سماعت کے دوران ملزم کے وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے میں پیش کیے گئے چشم دید گواہوں کی موقع پر موجودگی ثابت نہیں ہوتی۔ گواہوں کے بیانات اور دیگر شواہد کا جائزہ لینے سے استغاثہ کا مقدمہ قابلِ اعتماد طور پر ثابت نہیں ہوتا۔وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹھوس شواہد کے بغیر ٹرائل کورٹ نے ملزم کو سزائے موت سنائی، جبکہ استغاثہ ملزم کے خلاف الزام کو شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔دوسری جانب خاتون سرکاری وکیل راحت مجید نے ملزم کی بریت کی اپیل کی مخالفت کی۔
سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے میں موجود شواہد ملزم کے قصوروار ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں، لہٰذا ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت برقرار رکھی جائے۔عدالت نے فریقین کے دلائل اور مقدمے کے ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے چشم دید گواہوں کی موقع پر موجودگی قابلِ اعتماد شواہد سے ثابت نہیں ہوتی۔عدالت نے شواہد میں موجود خامیوں اور استغاثہ کے مقدمے میں پائی جانے والی کمزوریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزم شہزاد احمد کو شک کا فائدہ دے دیا۔لاہور ہائیکورٹ نے سیشن کورٹ کی جانب سے ملزم کو سنائی گئی سزائے موت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے شہزاد احمد کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔