ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بھارتی آبی جارحیت، دریاؤں میں سیلابی ریلے، پنجاب و سندھ میں تباہی کا خطرہ بڑھ گیا

بھارتی آبی جارحیت، دریاؤں میں سیلابی ریلے، پنجاب و سندھ میں تباہی کا خطرہ بڑھ گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑے جانے کے بعد ہیڈ گنڈا سنگھ والا پر پانی کا بہاؤ تیزی سے بڑھ گیا، جہاں سے 3 لاکھ 27 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا گزرا جس کے نتیجے میں متعدد دیہات زیر آب آ گئے۔ ملتان کی تحصیل جلال پور پیر والا میں دریائے چناب کی طغیانی سے 100 سے زائد بستیاں پانی میں ڈوب گئیں۔ متاثرہ علاقوں میں ہیلی کاپٹرز اور کشتیوں کے ذریعے ریسکیو آپریشن جاری رہا۔

شدید خطرات کے پیش نظر ہزاروں افراد نے نقل مکانی کرلی ہے جبکہ شہر کے بند تک پانی پہنچنے پر ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا۔ وہاڑی پل بند کو شہر کو بچانے کے لیے توڑ دیا گیا ہے۔ آئندہ 12 گھنٹوں کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے مساجد سے اعلانات کے ذریعے شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

دوسری جانب، لیاقت پور میں دریائے چناب کے ریلے نے 35 دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ جلال پور پیر والا میں موسلادھار بارش نے سیلاب متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے جبکہ عارف والا میں دریائے ستلج کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔ٹبی لال بیگ کے قریب متاثرین نے سڑک پر کٹ لگا دیا، جس سے سیلابی ریلا تیزی سے عارف والا بہاولنگر روڈ کی طرف بڑھنے لگا۔ جلال پور پیر والا کے قریب چار افراد پانی میں ڈوب گئے جن میں سے دو (16 سالہ لڑکا اور 15 سالہ لڑکی) کی لاشیں نکال لی گئیں جبکہ دو کی تلاش جاری ہے۔

ترنڈہ محمد پناہ میں ریسکیو آپریشن کے دوران کشتی الٹ گئی، حادثے میں دو خواتین جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں جبکہ چار بچے لاپتہ ہو گئے۔

ادھر چناب، ستلج اور راوی میں اونچے درجے کی سیلابی کیفیت برقرار ہے اور اب ریلوں کا رخ سندھ کی طرف ہو چکا ہے۔ گڈو بیراج پر پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 16 ہزار کیوسک تک جا پہنچا ہے جسے درمیانے درجے کا سیلاب قرار دیا جا رہا ہے۔ خدشہ ہے کہ گڈو سے 8 لاکھ کیوسک کا ریلا گزرے گا، جس سے کچے کے علاقے زیر آب آ سکتے ہیں۔

خان پور میں دریائے سندھ سے 7 لاکھ 82 ہزار کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے جبکہ آئندہ 24 گھنٹوں میں یہ مقدار 9 سے 10 لاکھ کیوسک تک جا سکتی ہے۔ سکھر میں نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔

سندھ حکومت نے صورتحال پر قابو ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ صوبائی وزیر شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ پانی کی سطح پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور حکومت عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ پنجند اور تریموں کے مقامات پر بھی صورتحال سنگین ہو چکی ہے اور گڈو کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

انتظامیہ نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ حفاظتی تدابیر اختیار کریں اور ریسکیو اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔