عمران خان کیخلاف انتخابی عذرداری، فریقین کو دلائل کیلئے طلب کرلیا گیا

عمران خان کیخلاف انتخابی عذرداری، فریقین کو دلائل کیلئے طلب کرلیا گیا


ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعظم عمران خان کی عام انتخابات میں کامیابی کے خلاف انتخابی عذرداری کے قابل سماعت ہونے کے بارے میں فریقین کے وکلاء کو 12 نومبر کو دلائل کے لیے طلب کرلیا ہے۔   

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد وحید پر مشتمل الیکشن ٹربیونل نے عمران خان کے مدمقابل پاکستان جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی کے امید وار عبدالوہاب بلوچ کی انتخابی عذرداری پر سماعت کی، جس میں وزیراعظم عمران خان کی عام انتخابات میں کامیابی کو چیلنج کیا گیا۔ انتخابی عذرداری میں عمران خان کے کاغذات نامزدگی اور ان کے انتخابات لڑنے کی اہلیت پر اعتراضات اٹھائے گئے۔  

عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے انتخابی عذرداری کو ناقابل سماعت قرار دیا اور انتخابی عذرداری کے لیے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے، وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ عذرداری کی تصدیق لاہور کی بجائے اسلام آباد کے اوتھ کمشنر نے کی۔ بابر اعوان نے واضح کیا کہ عمران خان نے کاغذات نامزدگی میں تمام معلومات فراہم کی ہیں، اس عذرداری کو مسترد کیا جائے۔

دوسری جانب درخواست گزار کے وکیل مبین قاضی نے دعویٰ کیا کہ عمران خان نے کاغذات نامزدگی میں اپنے بچوں کے بارے میں تمام معلومات فراہم نہیں کیں، کاغذات نامزدگی میں تمام معلومات فراہم نہ کرنے پر وہ انتخاب لڑنے کے اہل نہیں ہیں۔  

درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ عمران خان کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپانے پر صادق اور امین نہیں رہے، اس لیے این اے 95 سے ان کی کامیابی کو کالعدم قرار دیا جائے, عذرداری پر مزید کارروائی 12 نومبر کو ہوگی۔