لاہور ہائیکورٹ میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ کیخلاف درخواستیں

لاہور ہائیکورٹ میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ کیخلاف درخواستیں

( ملک اشرف ) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مامون رشید شیخ نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر لارجر بنچ بنانے کی سفارش کردی، عدالت نے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو عدالتی معاونت کیلئے طلب کرلیا۔

لاہور ہائیکورٹ میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ کیس کی سماعت جسٹس مامون رشید شیخ نے کی، سابق لارڈ میئر لاہور مبشر جاوید سمیت دیگر درخواستگزاروں کی جانب سے احسن بھون اور ملک اویس خالد اڈووکیٹ سمیت دیگر پیش ہوئے۔ وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ بلدیاتی انتخابات سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت کرائے گئے، لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کی مدت پانچ سال ہے، اس ایکٹ کو اپنی پانچ سالہ مدت مکمل کئے بغیر ختم نہیں کیا جاسکتا۔

اسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ قانون بنانا حکومت کا اختیار ہے، سرکاری وکیل نے دلائل دئیے کہ وزیراعلیٰ کے پاس ایڈمنسٹریٹر لگانے کا اختیار ہے ہمیں تفصیلی جواب کیلئے وقت دیا جائے۔

جسٹس مامون رشید شیخ نے سابق لارڈ میئر مبشر جاوید سے استفسار کیا کہ دو سال تک آپ خاموش بھیٹے رہے، ایک لفظ تک نہیں بولا، اب کہہ رہے ہیں ہمارا حق سلب ہو رہا ہے، دوسال تک سوئے رہے، اب یاد آگیا۔

جسٹس مامون رشید شیخ نے مزید کہا کہ میئر صاحب آپ نے بھی ڈپٹی میئرز کو اختیارات اور اپنے حق کیلئے آواز نہیں اٹھائی۔ سابق میئر بولے میں نے زون بنا کر ڈپٹی میئرز کو اختیارات دئیے، رولز آف بزنس نہیں تھے، چھ ماہ تک مختلف دفاتر میں دھکے کھاتا رہا۔ عدالت نے کہا، آپ تو اپنی حکومت سے اختیارات نہیں لے سکے، مبشر جاوید بولے موجودہ حکومت نے ان کے ساتھ ناانصافی کرتے ہوئے ان کی مدت ختم کی۔

عدالت نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے معاملے پر لارجر بنچ بنانے کی سفارش کر دی اور فائل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو بھجوا دی۔