ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مجتبیٰ خامنہ ای نئے سپریم لیڈر مقرر، ایران میں جشن

پاسدارانِ انقلاب نے نئے سپریم لیڈر سے وفاداری کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مجتبیٰ خامنہ ای کے ہر حکم پر عمل کرنے کے لیے تیار ہیں

مجتبیٰ خامنہ ای نئے سپریم لیڈر مقرر، ایران میں جشن
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر نامزد کیے ئے جبکہ  ملک کے مختلف شہروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

 تہران سمیت کئی شہروں میں لوگ قومی پرچم اور مجتبیٰ خامنہ ای کی تصاویر اٹھائے سڑکوں پر نکل آئے اور نئے رہنما کے حق میں جشن منایا۔ شہریوں نے ان کی تصاویر پر پھول نچھاور کر کے اپنی خوشی کا اظہار بھی کیا۔

دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے نئے سپریم لیڈر سے وفاداری کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مجتبیٰ خامنہ ای کے ہر حکم پر عمل کرنے کے لیے تیار ہیں۔

 سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ موجودہ حساس حالات میں نئے سپریم لیڈر ملک کی مؤثر قیادت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ انہوں نے دھمکیوں کے باوجود جانشین کے انتخاب پر مجلسِ رہبری کا شکریہ بھی ادا کیا۔

ادھر ایران کے اعلیٰ حکومتی عہدیداروں نے بھی کھل کر مجتبیٰ خامنہ ای کی حمایت کا اعلان کیا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ بھی نئے سپریم لیڈر کی حمایت کریں۔

مزید برآ ں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے مجلسِ خبرگان کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ قیادت کی پیروی کرنا ایرانی عوام کا مذہبی اور قومی فریضہ ہے۔

علی لاریجانی نے مزید کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک نئے رہنما کے گرد اتحاد قائم کرے۔ انہوں نے مجلسِ خبرگان کے واضح فیصلے پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دشمنوں کو امید تھی کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران قیادت کے بحران کا شکار ہو جائے گا، تاہم مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا رہبرِ اعلیٰ منتخب کر لیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے ایرانی میزائلوں کی حد دو ہزار کلومیٹر تک محدود قرار دیتے ہوئے کہا تھا  کہ ایران طویل فاصلے تک پار کرنے والے میزائل تیار نہیں کر رہا ہے اور ایسے کوئی شواہد یا انٹیلی جنس نہیں کہ میزائل امریکا تک پہنچ سکتے ہیں۔

سپریم لیڈر کے انتخاب کے حوالے سے انہوں نے کہا تھا  کہ نیا سپریم لیڈر مجلس خبرگان منتخب کرے گی، سپریم لیڈر کا انتخاب ایران کا اندرونی معاملہ ہے، صدر، کابینہ اور پارلیمنٹ معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں اور  نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا فیصلہ صرف ایران کے عوام کا حق ہے۔