انوار الحق :صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی میں واقع غلام اسحاق خان انسٹیٹوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں ایک طالبعلم کی مبینہ خودکشی کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ فرسٹ ایئر انجینئرنگ کے طالبعلم کی لاش سحری کے وقت ہاسٹل کے کمرے سے پھندے لگی حالت میں ملی جسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔
پولیس ایف آئی آر کے مطابق فرسٹ ایئر کے طالبعلم ارسلان ریاض ولد ریاض حسین کی لاش ہاسٹل کے کمرے سے پھندے سے لٹکی ہوئی ملی۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق طالبعلم نے مبینہ طور پر خودکشی کی، تاہم واقعے کی اصل وجوہات تاحال سامنے نہیں آسکیں اور پولیس مختلف زاویوں سے تحقیقات کر رہی ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق سحری کے وقت جب ساتھی طلبہ اسے جگانے کے لیے کمرے میں پہنچے تو وہ پھندے سے لٹکا ہوا پایا گیا۔ طلبہ نے فوری طور پر اسے نیچے اتار کر ہسپتال منتقل کیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔ ذرائع کے مطابق واقعے کے وقت اس کا روم میٹ کمرے میں موجود نہیں تھا اور ایک روز قبل گھر گیا ہوا تھا۔
واقعے کے بعد طلبہ نے یونیورسٹی کے مرکزی گیٹ کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے سڑک بلاک کر دی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگر بروقت ایمبولینس اور مناسب طبی سہولیات میسر ہوتیں تو شاید طالبعلم کی جان بچ سکتی تھی۔ طلبہ نے ہاسٹل وارڈن اور دیگر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔
بعد ازاں یونیورسٹی انتظامیہ اور طلبہ کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد سڑک کھول دی گئی۔ انتظامیہ نے غفلت برتنے پر ڈی ایس اے اور ہاسٹل وارڈن کو برطرف کرنے کا اعلان کیا اور طلبہ سے معذرت بھی کی۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور 7 دن کے اندر انکوائری رپورٹ پیش کی جائے گی۔