چیف جسٹس کا پی آئی سی کا دورہ، حکومتی دعوؤں کا بھانڈا پھوٹ گیا


(سٹی42) چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار آج کل خبروں کی زینت بنے ہوئے ہیں، ازخود نوٹسز سے روز بہ روز عوام میں مقبول ہو رہے ہیں، لیکن نون لیگ کا برا وقت شروع ہوگیا، ہر دوسرے دن کسی نا کسی پنجاب حکومت کے افسر کی عدالت میں پیشی ہو رہی ہے۔ گزشتہ روز عدالت نے پیرا گون ہائوسنگ سوسائٹی کے معاملے پر خواجہ سعد رفیق کو 10 مارچ کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے سپریم کورٹ میں ازخود نوٹسز کیسز کی سماعت کے بعد سروسز ہسپتال اور پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے شعبہ حادثات کا اچانک دورہ کیا۔ اس موقع پر جسٹس اعجاز الحسن، چیف سیکرٹری کیپٹن( ر )زاہد سعید، سیکرٹری ہیلتھ نجم احمد شاہ، ایم ایس سروسز ڈاکٹر امیر، پروفیسر ندیم حیات، ڈاکٹر دلدار سمیت دیگر موجود تھے۔

یہ خبر پڑھیں۔۔۔پنجاب حکومت کے شعبہ صحت میں بہتری کے دعوے اور اصل حقیقت

چیف جسٹس نے دونوں ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز،ادویات اوربستروں کی فراہمی کاجائزہ لیا۔ مریضوں اور ان کے لواحقین نے چیف جسٹس کے سامنے شکایات کے انبار لگا دئیے۔چیف جسٹس نے ان شکایات کے جلد حل کی یقین دہانی کروائی اور سروسز ہسپتال انتظامیہ کو انتظامات  بہتر کرنے کے احکامات جاری کیے۔

یہ خبر بھی پڑھیں:۔۔۔۔سرکاری ہسپتالوں کی ادویات سستی خرید کر مہنگے داموں فروخت

سروسزہسپتال سے نکل کر  جب چیف جسٹس پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پہنچے، تو وہاں ویل چیئر پر بیٹھی خاتون نے علاج معالجہ کی سہولیات کا بھانڈا پھوڑ دیا۔

خاتون نے چیف جسٹس کو بتایا کہ وہ کئی روزسے ہسپتال میں ہیں لیکن بسترنہیں مل سکا، ویل چیئر پرگزارہ کررہی ہوں۔ جس پر ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ پنجاب بھر میں امراض قلب کا واحد ہسپتال ہے، ایسے چار اور ہسپتالوں کی ضرورت ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ  ایک ہسپتال کے انتظامات کو تو بہترکر لیں۔