پنجاب حکومت کے شعبہ صحت میں بہتری کے دعوے اور اصل حقیقت

پنجاب حکومت کے شعبہ صحت میں بہتری کے دعوے اور اصل حقیقت
City42 - Hospital

(قذافی بٹ) پنجاب حکومت کی جانب سے شعبہ صحت میں بہتری کے دعوے تو بہت کیے جاتے ہیں، مگر صورتحال اس کے برعکس ہے، سرکاری ہسپتالوں میں حالت یہ ہے کہ ایک بستر پر دو سے تین مریض لیٹنے پر مجبور ہیں۔

پنجاب حکومت کے دعووں اور حقیقت میں کتنا تضاد ہے، اس کا حقیقی منظر دیکھنا ہو تو آپ کو عملی طور پر سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار دیکھ کر پتا چلے گا۔مسلم لیگ ق کے چوہدری عامر سلطان چیمہ کی جانب سے شعبہ صحت میں 50 فیصد بجٹ استعمال نہ ہونے کے خلاف پنجاب اسمبلی میں تحریک التوائے کار جمع کرا دی ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں:۔۔۔۔سرکاری ہسپتالوں کی ادویات سستی خرید کر مہنگے داموں فروخت

تحریک التوائے کار میں کہا گیا ہے کہ حکومت پنجاب کے دعوے صرف اور صرف الفاظ کی حد تک قائم ہیں، صحت کے شعبے میں اصلاحات لانے کے بیشتر منصوبے ہی شروع نہیں ہوسکے جبکہ جاری منصوبوں پر بجٹ کا استعمال انتہائی کم رہا ہے۔رواں مالی سال ختم ہونے کے قریب ہے مگر استعمال شدہ بجٹ کی حد پچاس فیصد تک نہ پہنچ سکی۔

یہ خبر پڑھنا مت بھولیے۔۔۔ ٹاپ میرٹ ہولڈر ڈاکٹرز دور دراز کے ہسپتالوں میں ٹریننگ کرنے پر مجبور

تحریک التوائے کار میں کہا گیا ہے کہ لاہور سمیت پنجاب بھر میں لوکل ڈویلپمنٹ پروگرام پر صرف 1 فیصد فنڈ استعمال ہوسکا جس کی وجہ سے متعدد اسکیمیں التواء کا شکار ہیں۔ پنجاب بھرمیں ہیلتھ پر ریسرچ کا منصوبہ کاغذوں کی زینت بنا ہوا ہے، کسی قسم کی کوئی ریسرچ اور ڈویلپمنٹ سامنے نہیں آسکی۔سکینڈری ہیلتھ کیئر پروگرام کے لیے 5 ارب سےزائد مختص کیے گئے لیکن 24 منصوبوں پر صرف 9 فیصد بجٹ استعمال ہو سکا۔