سیشن کورٹ ڈاک خانہ بلاک انتظامیہ کی نااہلی کھل کر سامنے آگئی


(شاہین عتیق ) سیشن کورٹ انتظامیہ نے ڈاک خانہ بلاک دیمک کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا۔ سپرے اور صفائی نہ ہونے سے دیمک کی قطاریں اہم ریکارڈ کی طرف بڑھنے لگیں۔ فوری اقدامات نہ ہوئے تو ریکارڈ دیمک کی خوراک بننے کا خدشہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق ریکارڈ روم میں 1961 سے اب تک کا پرانا ریکارڈ رکھا گیا ہے مگر دیمک اپنی پسندیدہ غذا سمجھتے ہوئے تیزی سے ان فائلوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔ دو منزلہ عمارت پر مشتمل ریکارڈ روم میں ایک عرصے سے سپرے نہیں کیا گیا۔ بالائی منزل پر مقدمات کے پلندے پڑے ہیں اور فرش پر بھی اِدھر اُدھر کاغذات بکھرے نظرآتے ہیں۔

 کسی کو اگر پرانے مقدمے کی فائل درکار ہو تو شاید مشکل سے ہی ملتی ہوگی کیونکہ بے ہنگم اور اُلجھی فائلوں سے ریکارڈ تلاش کرنا کسی کٹھن مرحلے سے کم نہیں۔

سائلین کا کہنا ہے کہ یہاں کم از کم صفائی تو ہونی چاہیے۔ریکارڈروم میں سپرے اور صفائی کرانے کیساتھ ساتھ اگر ان مقدمات کی معلومات کمپیوٹر میں محفوظ کرلی جائیں تو مسئلہ سرے سے ہی حل ہوجائے گا، متعلقہ ذمہ داروں کو اس پر فوری اور سنجیدگی سے اقدامات کی ضرورت ہے۔