حماس نے اپنے حامیوں کے غزہ کے لئے فلوٹیلا پر اسرائیلی فوج کے قبضےکو ریاستی دہشت گردی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ فلوٹیلا پر قبضہ آزادی کی آواز کو خاموش نہیں کرسکےگا۔
حماس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس مختلف قومیتوں کے بہادر کارکنوں کو سلام پیش کرتی ہے جو دھمکیوں کے سامنے ڈٹے رہے اور اس بات کی تصدیق کی کہ غزہ تنہا نہیں ہے۔
حماس نے کہا الجزائر، تیونس اور اردن سے غزہ جانے والے امدادی قافلے اسرائیل کی پروپیگنڈا مشین کی ناکامی کی گواہی ہیں۔
اسرائیلی بحری فوج نے فلوٹیلا کولیشن میں شامل غزہ میں امداد لے جانے والی کشتی 'میڈلین' کو بین الاقوامی سمندر میں روک کر اس کا محاصرہ کیا اور اسے قبضے میں لے لیا جب کہ جہاز پر سوار افراد کو بھی حراست میں لے لیا ۔
اسرائیلی فوج نے جہاز کا گھیراؤ کرنے کے بعدکمیونیکیشن کو جام کیا اور مطالبہ کیا کہ جہاز میں موجود ہر شخص اپنا فون بند کر دے جس کے بعد جہاز کے ارکان کا رابطہ منقطع ہوگیا جہاز سے جاری لائیو نشریات بھی بند ہوگئیں۔
6 جون کو سسلی سے روانہ ہونے والی اس کشتی میں ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اور یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن سمیت 11 افراد سوار ہیں۔
اسرائیلی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ 'شو' ختم ہوچکا، اس فلوٹیلا کےمسافروں کو ان کے وطن واپس بھیجا جاسکتاہے۔