ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایرانی وزیر خارجہ کی سعودی ولی عہد سے اہم ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

 ایرانی وزیر خارجہ کی سعودی ولی عہد سے اہم ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے  سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی جس میں خطے کی حالیہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

 سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے  جدہ میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کے وفد سے ملاقات کی۔

 یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اور خطے کی غیر مستحکم صورتحال سے نمٹنے کی جاری کوششوں کے سلسلے کا حصہ تھی۔

 سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ملاقات کے دوران شہزادہ محمد بن سلمان اور عراقچی نے سعودیہ اور ایران کے درمیان تعلقات کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا اور خطے کی حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

سعودی ولی عہد نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان موجودہ جنگ بندی معاہدہ خطے میں سکیورٹی اور استحکام کے فروغ کے لیے بنیاد فراہم کرے گا۔

  انہوں نے  اس بات پر زور دیا کہ خطے کے تنازعات کو حل کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت انتہائی اہم ہے۔

 اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیلی جارحیت کی مذمت پر سعودی عرب کے مؤقف پر شکریہ ادا کیا اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے ولی عہد کی ذاتی کوششوں کو سراہا۔

 اس سے قبل منگل کو ہی سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے مکہ مکرمہ میں اپنے ایرانی ہم منصب کا استقبال کیا، جہاں دونوں وزراء نے دو طرفہ تعلقات اور خطے میں تعاون کو فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔

  دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی برطانی جریدے کو ایک مضمون میں کہا کہ  اسرائیل کی جنگ نے سفارت کاری کو سبوتاژ کردیا ، امریکا سفارت کاری دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔

 ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے برطانوی جریدے میں ایک مضمون میں کہا کہ مذاکرات کے دوران اسرائیلی حملے نے ثابت کر دیا کہ اسرائیل کو امن سے زیادہ تصادم پسند ہے ، امریکا نے بھی ایران پر حملوں سے بین الاقوامی قانون اور این پی ٹی کی خلاف ورزی کی۔

 عباس عراقچی نے کہا کہ  ایران کو امریکا کی جانب سے دوبارہ مذاکرات کے پیغامات ملے ہیں ، لیکن ہم اب امریکا پر کیسے اعتماد کریں؟ ایران سفارت کاری میں اب بھی دلچسپی رکھتا ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ امریکا واقعی مسئلے کا  پُرامن حل چاہتا ہے تو برابری کی سطح پر معاہدے کو ممکن بنائے ۔