ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

'بیف بریانی' کا نوٹس، ہندو تواپرست شرپسند سیخ پا، 2 سٹوڈنٹس کیخلاف مقدمہ درج

'بیف بریانی' کا نوٹس، ہندو تواپرست شرپسند سیخ پا، 2 سٹوڈنٹس کیخلاف مقدمہ درج
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : گائے کو مقدس ماننے والے اکثر ہندو جب کہیں ’بیف بریانی‘ یا اس سے ملتی جلتی کوئی کھانے کی چیز کے بارے میں سن لیں تو پاگل ہاتھی کی طرح جو نظر آئے اسی پر ٹوٹ پڑتے ہیں، ایسا ہی ایک واقعہ بھارت کی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ہاسٹل میں پیش آیا ہے۔ 

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پڑھنے والے چند سٹوڈنٹس کی جانب سے ہاسٹل مینو میں  'چکن بریانی' کے بجائے 'بیف بریانی' شامل کرنے کی فرمائش پر اسے مینو  کا حصہ بنادیا  گیا۔ 2 سٹوڈنٹس نے اس حوالے سے نوٹس بھی جاری کردیا، اس نوٹس کی خبر باقی سٹوڈنٹس تک پہنچی تو  ہمیشہ کی طرح ہندو تواپرست شرپسندوں نے ہنگامہ آرائی شروع کردی، ان کو بغیر کھائے یہ چیز کہاں ہضم ہوگی کہ گائے کا گوشت بے حد لزیز کھانے کی اشیا میں سے ایک ہے۔ یہ نوٹس سوشل میڈیا پر بھی بے حد وائرل ہوگیا، جس کے بعد نہ صرف ہاسٹل بلکہ باہر موجود اور بھارت کی جڑوں میں بیٹھے ہوئے شرپسند چہرے بھی اپنا اپنا حصہ ڈالنے دوڑ آئے ۔ جس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے متنازع نوٹس جاری کرنے کے ذمہ دار 2 سٹوڈنٹس محمد فیض اللہ اور مزمل احمد بھٹی کو شوکاز نوٹس جاری کردیا ہے اور دونوں کے خلاف سٹوڈنٹس کے جذبات مجروح کرنے پر مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔ 

سوشل میڈیا پر وائرل نوٹس میں لکھا تھا کہ 'سر شاہ سلیمان ہال کے ڈائننگ ہال میں آپ کی ڈیمانڈ پر سنڈے لنچ کا مینو تبدیل کر دیا گیا ہے اور اب چکن بریانی کی جگہ بیف بریانی دستیاب ہوگی، امید ہے کہ آپ مینو میں اس نئی تبدیلی سے لطف اندوز ہوں گے'۔ 

بات حد سے زیادہ بڑھی تو اس پر ردعمل دیتے ہوئے انتظامیہ نے واضح کیا کہ ایسا جان بوجھ کر نہیں کیا گیا بلکہ ٹائپنگ کی غلطی کا نتیجہ تھا، معاملہ سامنے آنے کے بعد نوٹس فوری طور پر واپس لے لیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے کہا کہ'ہم کسی بھی ایسی کارروائی میں ملوث نہیں ہوتے جس سے طلبہ کے جذبات مجروح ہوں، ہاسٹل کے کھانے کا مینو طلبہ کے اتفاق رائے سے تیار کیا جاتا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ کسی بھی مذہب یا گروہ سے تعلق رکھنے والے سٹوڈنٹس کے جذبات مجروض نہ ہوں، متنازع نوٹس میں ٹائپنگ کی ایک واضح غلطی تھی جسے واپس لے لیا گیا ہے'۔