ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

دنیا کے عجوبے بلیک ہول کے بارے میں ایک اور اہم انکشاف

 دنیا کے عجوبے بلیک ہول کے بارے میں ایک اور اہم انکشاف
کیپشن: File photo
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک :دنیا کے عجوبوں میں سے ایک عجوبہ بلیک ہول ہے جس کے بارے میں میں آپ نے کافی کچھ سنا یا پڑھا ہوگا، اس کے بارے میں کافی کچھ ایسا ہے جس کا ابھی تک علم نہیں ہوسکا مگر سائنسدانوں نے اس کا ایک اسرار ضرور جان لیا ہے۔

لیک ہولز خلا میں موجود عجیب ترین چیزوں میں سے ایک ہیں۔اب سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ بلیک ہولز 'اپنا کھانا' خود پکا کر کھاتے ہیں۔

 چلی کی Santiago یونیورسٹی کے ماہرین نے بتایا کہ بلیک ہولز کے اطراف میں گیس موجود ہوتی ہے جن کا درجہ حرارت مختلف جگہوں پر مختلف ہوتا ہے۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ بلیک ہولز گرم گیسوں کو جذب کرتے ہیں جس سے ان میں طوفان جیسا جوش پیدا ہوتا ہے۔اس جوش سے ان کے قریب موجود گرم گیس ٹھنڈی ہو جاتی ہے اور یہ چکر مسلسل چلتا رہتا ہے۔ بلیک ہولز کے اردگرد سفید نقطے موجود ہیں جو دراصل گیس کے بادل ہیں۔جامنی رنگ کے بادل گرم گیسوں کی نشاندہی کرتا ہے۔بلیک ہولز کی جانب سے گیس کے بادلوں کی طرف مادہ خارج کرتا ہے اور یہ مادہ جامنی بادل کو ٹھنڈا کرکے گلابی رنگ کی شریانوں جیسا پیٹرن بناتا ہے۔یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے اور کبھی رکتا نہیں۔محققین نے بتایا کہ گیسوں کے بادلوں کے اندر موجود ہیجان بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔


خیال رہے کہ کائنات کے اسراروں میں سے ایک اسرار بلیک ہول بھی ہے جسے جاننے اور سمجھنے کے لیے سائنسدان تگ و دو میں لگے رہتے ہیں۔بلیک ہول کائنات کا وہ اسرار ہے جسے کئی نام دیے گئے ہیں، کبھی اسے ایک کائنات سے دوسری کائنات میں جانے کا راستہ کہا جاتا ہے تو کبھی موت کا گڑھا۔کوئی بھی ستارہ بلیک ہول اس وقت بنتا ہے جب اس کے تمام مادے کو چھوٹی جگہ میں قید کردیا جائے۔ اگر ہم اپنے سورج کو ایک ٹینس بال جتنی جگہ میں مقید کردیں تو یہ بلیک ہول میں تبدیل ہوجائے گا۔