ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ٹرمپ کی نیٹو سیکرٹری جنرل سے ملاقات،ایران جنگ میں حمایت نہ کرنے پر تنقید

ٹرمپ کی نیٹو سیکرٹری جنرل سے ملاقات،ایران جنگ میں حمایت نہ کرنے پر تنقید
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وہائٹ ہاؤس میں نیٹو کے سکریٹری جنرل مارک روٹے کیساتھ ایک نجی ملاقات کے بعد ایران جنگ میں امریکہ کی حمایت نہ کرنے پر ایک بار پھر نیٹو کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے بدھ کو وہائٹ ہاؤس میں دو گھنٹے سے زیادہ وقت گزارا۔

میڈیا رپورٹس کےمطابق  امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وہائٹ ہاؤس میں نیٹو کے سکریٹری جنرل مارک روٹے کے ساتھ ایک نجی ملاقات کے بعد، ایران جنگ میں امریکہ کی حمایت نہ کرنے پر ایک بار پھر نیٹو کو تنقید کا نشانہ بنایا، بی بی سی نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ملاقات کے بعد ٹروتھ سوشل پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں امریکی صدر نے کہا کہ  جب ہمیں نیٹو کی ضرورت تھی تب وہ موجود نہیں تھے اور اگر ہمیں ان کی پھر ضرورت پڑی تو وہ موجود نہیں ہوں گے۔
دریں اثنا واضح اختلافات کے باوجود مسٹر روٹے نے سی این این کو ٹرمپ کے ساتھ اپنی ملاقات کو بہت واضح اور کھلا قراردیا۔ بدھ کی بات چیت سے پہلے ٹرمپ نے نیٹو سے نکلنے پر غور کیا تھا کیونکہ کئی نیٹو ممالک نے تیل کی بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں مدد کیلئے انکی اپیل کی مخالفت کی تھی۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے مذاکرات کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے بدھ کو وہائٹ ہاؤس میں دو گھنٹے سے زیادہ وقت گزارا، حالانکہ ٹرمپ کے ساتھ ان کی ملاقات کا دورانیہ معلوم نہیں ہے۔ ملاقات کا مقصد  ٹرمپ کو یہ باور کرانا تھا کہ نیٹو اتحاد میں باقی رہنا ان کے اور امریکہ دونوں کے مفاد میں ہے۔ تاہم، یہ واضح ہے کہ صدر ٹرمپ اب بھی اتحاد اور اس کے رکن ممالک کے بارے میں گہرے تحفظات کا شکار ہیں، ان کا خیال ہے کہ انہوں نے آپریشن ایپک فیوری سے پہلے اور اس کے دوران ان ممالک نے امریکہ کی خاطرخواہ مدد نہیں کی۔ 

 وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ سے ایران کے ساتھ جاری تنازع میں نیٹو کے کردار کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر انہوں نے صدر ٹرمپ کے براہ راست اقتباس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نیٹو کا امتحان لیا گیا اور وہ ناکام رہا۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو ممالک نے امریکی عوام سے منہ موڑ لیا ہے جو اپنے ممالک کے دفاع کے لیے فنڈز فراہم کرتے ہیں اور ٹرمپ نیٹو کے سربراہ کے ساتھ بہت صاف اور بے باک بات چیت کریں گے۔

  نیٹو کے سکریٹری جنرل نے سی این این کو بتایا کہ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زیادہ تر یورپی ممالک نے فوجی اڈے قائم کرنے، لاجسٹک سپورٹ اور فضائی پروازوں میں مدد فراہم کی ہے۔ تاہم، یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا یہ بات اور سکریٹری جنرل کے مسٹر ٹرمپ کے ساتھ خوشگوار تعلقات امریکی صدر کے لیے کافی ثابت ہوں گے یا نہیں۔