جانی ! کیا آج میری برسی ہے یعنی کیا آج مرگیا تھا میں

John Elia
کیپشن: John Elia
سورس: google
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(زین مدنی) بے دلی کیا یوں ہی دن گزر جائیں گے، صرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے، منفرد لب ولہجے کے یکتا شاعر، نامور ادیب اور دانشور جون ایلیا کی آج 19 ویں برسی منائی جارہی ہے، اپنی منفرد شاعری کی بدولت وہ ادبی حلقوں اور مداحوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔

یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا

ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا

جون ایلیا اُردو شاعری کا ایک بہت بڑا نام اور ان کے قطعات اُردو اپنی مثال آپ ہیں۔ جون ایلیا کا اصل نام سید اصغر جون تھا, وہ 14 دسمبر 1931ء  کو بھارتی شہر امروہہ میں پیدا ہوئے, قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرکے کراچی میں سکونت اختیار کی۔ اپنے انوکھے انداز تحریر کے باعث جلد ہی فن شاعری کی بلندیوں تک پہنچ گئے۔

جوگزاری نہ جاسکی ہم سے

ہم نے وہ زندگی گزاری ہے

ان کی شاعری کے 4 دیگر مجموعے یعنی، لیکن،  گماناور گویا ان کی وفات کے بعد شائع ہوئے، انہوں نے شاعری کے علاوہ فلسفہ، منطق، اسلامی تاریخ، سائنس اور مغربی ادب کے تراجم پر بھی وسیع کام کیا ہے انہوں نے دنیا کی 40 کے قریب نایاب کتب کے تراجم کیے۔

 جون ایلیا کو دیگر کئی زبانوں پر بھی عبور حاصل تھا۔ وہ غزل نگاری میں کمال رکھتے تھے۔ فن شاعری کا یہ درخشاں ستارہ 8 نومبر 2002ء کو ڈوب گیا، انہیں کراچی میں دفن کیا گیا۔

اب خوشی دے کر آزما لے خدا 

ان غموں سے تو میں نہیں مرتا

ادب سے جڑے شعراء کا ماننا ہے کہ جون اپنی منفرد شاعری میں اکیلا تھا، ان جیسے کی اب دوبارہ توقع نہیں کی جاسکتی، انھوں نے انگاروں پر چل کر شاعری کی جب کہ جون ایلیا ان نمایاں افراد میں شامل ہیں جنھوں نے قیام پاکستان کے بعد جدید غزل کو فروغ دیا۔