سٹی42: ویٹی کن کے سسٹین چیپل کی چمنی سے سیاہ دھواں نکلنا شروع ہو گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کانکلیو کے پہلے بیلٹ پر کوئی پوپ منتخب نہیں ہوا۔
آج شام رومن کیتھولک چرچ کے نئے پوپ کے انتخٓب کی سرگرمی (کونکلیو) کا آغاز ہوا ہے، تب سے چیپل کے باہر جمع صحافی اور رومن یکتھولک ایماندار انتظار کر رہے تھے کہ کارڈینلز کی ووٹنگ کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔
یہ پہلی ووٹنگ تھی جس کے بعد چیپل کی چمنی سے سیاہ دھواں اڑا کر باہر موجود منتظر ہجوم کو بتایا گیا کہ پہلی ووٹنگ میں کارڈینل کسی کو پوپ بنانے پر متفق نہیں ہوئے۔

سیاہ دھواں اٹھنے سے پہلے
انٹرنیشنل میڈیا خبر دے رہا تھا کہ چیپل کے باہر سینٹ لوئس میں مایوسی اور الجھن بڑھ رہی ہے۔ اب تک چیپل کے اندر کارڈینلز کے وونگ شروع کرنے کا کوئی نشان نہیں ہے۔
کارڈینلز کو سسٹین چیپل میں داخل ہوئے چار گھنٹے سے زیادہ کوقت گزر چکا تھا۔
اس دوران چیپل کے باہر جمع منتظر ہجوم نے تھوڑی تھوڑی دیر بعد تالیاں بجا کر جمود کو توڑنے کی سعی کی اور اپنے اپنے اشتیاق کا اظہار بھی کیا۔ اس طرح شاید وہ اندر موجود کارڈینلز تک اپنے احساسات پہنچا رہے تھے کہ وہ شدت سے منتظر ہیں۔
چار ہی گھنٹے انتظار کرنے کے بعد چیپل کے باہر جمع لوگوں مین سے کچھ نے ہار مان لی اور جب رات کے کھانے کا وقت قریب آیا اور غروب آفتاب کے بعد ٹھنڈ بڑھ گئی تو کچھ لوگ کھانے کے لئے وہاں سے چلے گئے۔ اس دوران ان کی جگہ کچھ نئے مشتاق بھی وہاں آ کر کھڑے ہو گئے۔
پوپ کے انتخاب کی اس سرگرمی کی دراصل یہی روایت ہے۔ انتظار، انتظار اور مزید انتظار! ۔

کارڈینلز کو بدھ کو ووٹ ڈالنے کی ضرورت نہیں تھی لیکن ایک توقع تھی کہ وہ ایسا کریں گے آکر کار انہوں نے ووٹ کر ہی لیا جو سیاہ دھوان نکلنے کا سبب بنا یعنی اندر موجود 133 کارڈینل نئے پوپ کے انتخاب پر تقسیم ہیں۔ وہ کس قدر تقسیم ہیں، اس کا اندازہ کرنے کا باہر موجود منتظروں کے پاس کوئی ذریعہ نہیں۔
جب وہ زیادہ بے تاب ہو جائین گے تو دعائیں کرین گے اور گیت گائیں گے۔ اس کے سوا دراصل وہ کچھ نہیں کر سکتے کیونکہچرچ کو نیا پوپ دینے کے لئے جو کچھ کرنا ہے چیپل میں بند ہو چکے کارڈینلز کو کرنا ہے اور کارڈین بھی بحث مباحثے اور ای کدوسرے کو قائل کرنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ کس کے قائل ہونے میں کس قدر وقت لگتا ہے اس کا تعین کرنا ممکن نہیں۔