ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایرانی جنگ میں ہلاک ہونے والے 6 امریکی فوجیوں کی لاشیں امریکا واپس، ٹرمپ کی شرکت 

ایرانی جنگ میں ہلاک ہونے والے 6 امریکی فوجیوں کی لاشیں امریکا واپس، ٹرمپ کی شرکت 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران ہلاک ہونے والے پہلے 6 امریکی فوجیوں کی لاشیں ہفتے کے روز امریکا پہنچا دی گئیں جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کی واپسی کی تقریب میں شرکت کی۔

 ہلاک فوجیوں کے  تابوت قومی پرچم میں لپٹے ہوئے فوجی طیارے کے ذریعے ڈیلاویئر کے ڈوور ایئر فورس بیس پر لائے گئے، جہاں فوجی دستے نے ہر تابوت اتارتے وقت سلامی دی۔

 تقریب میں صدر ٹرمپ کے ساتھ خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین بھی موجود تھے۔

ہلاک ہونے والے فوجی گزشتہ اتوار کو کویت میں ایک اہم امریکی کمانڈ سینٹر پر ایرانی ڈرون حملے میں جان سے گئے تھے۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کا آغاز کیا تھا۔

 ہلاک ہونے والے فوجیوں میں 5 مرد اور ایک خاتون شامل تھی، جن کی عمریں 20 سے 54 سال کے درمیان تھیں۔ یہ سب ریزرو فورس کے رکن تھے اور دیگر فوجیوں کو خوراک، ایندھن، سازوسامان اور اسلحہ فراہم کرنے کی ذمہ داری نبھاتے تھے۔

امریکی فوجیوں کی لاشوں  کی واپسی کو ‘ڈیگنیفائیڈ ٹرانسفر’ کہا جاتا ہے، جو ایک سنجیدہ فوجی روایت ہے۔ اس دوران تابوتوں کو ڈوور کے مردہ خانے منتقل کیا جاتا ہے، جہاں فوجی طبی ماہرین شناخت کے عمل کے بعد تدفین کی تیاری کرتے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں تعینات اہلکار ایران کے ساتھ بڑھتے تنازع کے باعث بڑھتے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔

 صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا مزید حملوں کی صورت میں ایران کو “بہت سخت جواب” دے گا اور نئے اہداف بھی نشانہ بنائے جا سکتے ہیں۔