سٹی42: امریکا نے ایرانی پٹرولیم مصنوعات کی فروخت سے متعلق پابندیوں کو دوبارہ سخت کرتے ہوئے ایران کو دی گئی مہلت میں کمی کر دی ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت کی مدت، جو پہلے 21 اگست تک تھی، اب کم کرکے 17 جولائی تک محدود کر دی گئی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ نئی پابندیاں آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے حملوں کے تناظر میں عائد کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد خطے میں سلامتی کے خدشات کے پیش نظر ایران پر دباؤ بڑھانا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکی فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکا نے اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کی، اس لیے اب پیدا ہونے والی صورتحال کا ذمہ دار بھی امریکا ہی ہوگا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے امریکی اقدام کا مناسب اور مؤثر جواب دے گا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔