سٹی42: وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی وِٹکوف غزہ جنگ بندی کے لئے حماس کے ساتھ اسرائیل کے مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیےخود دوحہ جائیں گے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے ایک پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹ کوف غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے اس ہفتے کے آخر میں دوحہ کا دورہ کریں گے۔
لیویٹ نے بتایا کہ اسرائیل کی طرف سے اس کی حمایت کے بعد جنگ بندی کی ایک "مناسب" تجویز میز پر ہے، اور وہ حماس پر زور دیتی ہیں کہ وہ اس تجویز پر عمل کرے۔
حماس نے امریکی اور قطری تجاویز کے جائزہ کے بعد لفظوں کی حد تک "مثبت جواب" دیا لیکن اس کے ساتھ عمل یہ رہا کہ حماس نے ان تجاویز پر تین مطالبات پیش کئے جن میں سے ایک بھی اسرائیل کے لئے قابل قبول نہیں اور کم از کم ایک نکتہ - غزہ میں امداد کی تقسیم کا اقوام متحدہ کے متوازی نظام خود امریکہ نے قائم کروایا تھا، حماس اسے بھی ختم کروانا چاہتی ہے۔ اصل رکاوٹ حماس کا غزہ کی پوسٹ سیزفائر صورتحال میں کردار ہے، حماس کے مطالبات میں اس ہی ضد کی جھلک نمایاں ہے کہ وہ غزہ میں پاور بروکر کے کردار سے دستبردار نہیں ہو گی۔ یہ صورتحال ایسی ہے جس نے درحقیقت 42 روزہ جنگ بندی تڑوائی تھی۔ اسرائیل کا میڈیا دو دن سے یہ رپورٹ کر رہا ہے کہ حماس کے امریکی تجاویز پر سامنے آنے والے مطالبوں کو وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ قبول نہیں کریں گے۔
بہر حال، فریقین نے گزشتہ دو دنوں میں مذاکرات کیے ہیں جس کا مقصد باقی ماندہ خلا کو ختم کرنا ہے۔
لیویٹ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی "انتہائی ترجیح" غزہ میں جنگ کو ختم کرنا اور باقی تمام یرغمالیوں کو واپس کروانا ہے۔ حماس کے قبضہ میں 540 دن کی جنگ کے بعد بھی د درجن کے لگ بھگ اسرائیلی یرغمال ہیں جنہیں حماس کے لوگ 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل کے اندر سے اٹھا کر لائے تھے، ان مین عورتیں ، بچے اور بوڑھے سبھی شامل تھے۔