(ویب ڈیسک)سپورٹس کی دنیا میں ایک گمنام کھلاڑی اپنی شاندار کارکردگی سے راتوں رات اسٹار بن جاتا ہے اور دنیا کے نمبر ایک کھلاڑی کی اگر قسمت خراب ہو جائے تو اس کا کیریئر وقت سے پہلے ختم بھی ہو سکتا ہے۔ آج ایسی ہی ایک کہانی آسٹریلیا کے سابق فاسٹ بولر ناتھن بریکن کے بارے میں بتائی جارہی ہے ، جو اپنے کیریئر کے عروج میں بڑے بڑے بیٹسمینوں کیلئے ڈرائونا خواب تھا ۔
بھارت کی ایک بڑی اردو ویب نیوز رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کے سابق فاسٹ بولر ناتھن بریکن ایک ایسا گیندباز جو اپنی رفتار اور درست لائن لینتھ کی وجہ سے ہمیشہ بلے بازوں کیلئے دردِ سر رہا۔ خاص طور پر ون ڈے فارمیٹ میں ان کی بولنگ اتنی شاندار تھی کہ وہ جیت کی ضمانت بن گئے تھے، لیکن قسمت کو کچھ اور منظور تھا۔ گھٹنے کی چوٹ اور ڈاکٹروں کے غلط علاج نے انکے کیریئر کو وقت سے پہلے ہی ختم کر دیا اور آج وہ اپنی زندگی گزارنے کے لیے کارپوریٹ نوکری کرنے پر مجبور ہیں۔ ناتھن بریکن نے آسٹریلیا کے لیے سال 2001 میں ون ڈے فارمیٹ میں اپنا ڈیبیو کیا تھا۔ اس کے بعد وہ اپنی ٹیم کے لیے 5 ٹیسٹ، 116 ون ڈے اور 19 ٹی20 میچز کھیلنے میدان میں اترے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں بریکن نے 12 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ ون ڈے میں ان کے نام 174 وکٹیں ہیں اور ٹی20 میں بریکن نے 19 وکٹیں حاصل کیں۔ آسٹریلیا کے لیے اتنے شاندار کیریئر کے باوجود انہوں نے صرف 33 سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔
فاسٹ بولر ناتھن بریکن نے سال 2011 میں انٹرنیشنل کرکٹ کو الوداع کہہ دیا تھا۔ بریکن کے ریٹائرمنٹ کے پیچھے وجہ ان کے دائیں گھٹنے کی چوٹ تھی۔ بریکن سال 2009 سے مسلسل چوٹ کے ساتھ جدوجہد کر رہے تھے۔ چوٹ کے باعث انہیں کئی بار سرجری بھی کرانی پڑی۔ سرجری کے بعد بریکن نے اپنی بولنگ اسٹائل میں تبدیلی کی تاکہ وہ دوبارہ آسٹریلیا کے لیے کھیل سکیں، لیکن آخر میں ڈاکٹروں نے انہیں مشورہ دیا کہ میدان سے دور رہنا بہتر ہوگا۔ ناتھن اس بات سے مایوس ہو گئے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ انکے اندر ابھی کرکٹ باقی ہے، لیکن چوٹ کی وجہ سے وہ مجبور ہو گئے۔اس صورتحال نے ناتھن بریکن کے دل میں کرکٹ آسٹریلیا کے لیے ایک خلش پیدا کر دی۔ اس پس منظر میں بورڈ اور بریکن کے درمیان تنازعہ شروع ہو گیا۔ ناتھن بریکن نے کرکٹ بورڈ پر لاپروائی کا الزام لگاتے ہوئے قانونی کارروائی شروع کی، جس کے تحت انہوں نے تقریباً 1 ملین ڈالر کے معاوضے کا مطالبہ کیا۔ بریکن نے دعویٰ کیا کہ سال 2007 میں انگلینڈ کے خلاف میچ سے پہلے انہیں گھٹنے میں چوٹ لگی تھی، لیکن بورڈ کے ڈاکٹروں اور فزیوتھیراپسٹ نے اسے درست طریقے سے تشخیص نہیں کیا۔ میڈیکل ٹیم نے انہیں کھیلنے کے لیے فٹ قرار دیا، جبکہ انہیں سرجری کی ضرورت تھی۔ ان کا ماننا تھا کہ اگر اُس وقت صحیح علاج ہوتا تو وہ 2015 تک کرکٹ کھیل سکتے تھے۔