ویب ڈیسک: بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھارت کے حالیہ تجارتی معاہدے کو ایپسٹین فائلز سے متعلق انکشافات کے دباؤ اور خوف میں امریکا کے سامنے "سر تسلیم خم" قرار دے دیا ہے۔
کانگریس کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے بھارت پر سستا روسی تیل خریدنے پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا تھا، جس کے بعد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے روسی تیل کی خریداری میں کمی کر کے امریکا کے مطالبات تسلیم کر لیے۔
کانگریس کا کہنا ہے کہ مودی کا یہ اقدام محض وقتی نہیں بلکہ بھارتی معیشت اور سفارت کاری پر طویل المدتی منفی اثرات مرتب کرے گا۔ اپوزیشن کے مطابق مودی نے بیرونی دباؤ میں قومی مؤقف سے انحراف کیا ہے اور یہ ناکام سفارت کاری اور واضح پسپائی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کا "خودمختاری" کا بیانیہ امریکی پابندیوں کے سامنے زمین بوس ہو چکا ہے، اور بھارتی خارجہ پالیسی حقیقت پسندی کی بجائے گمراہ کن بیانیے اور ہندوتوا نظریات کی اسیر بن چکی ہے۔