ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایک ڈالر چاہئے؟ ریال کا تھیلا بھر کر لائیں؛ اہم ملک میں یہ حال ہو گیا

Dollar vs Irani Rial, Irani currency depreciation, Irani Economy, International Sanctions
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  تہران کی کرنسی مارکیٹ میں ایرانی کرنسی ریال کی حالت از حد خڑاب ہو گئی۔ بدترین گراوٹ کا شکار ایرانی ریال اس قدر بے قیت ہو گیا کہ ایک ڈالر حاصل کرنے کے لئے بارہ لاکھ پچاس ہزار ریال ادا کرنا پڑتے ہیں۔ ایران کی کرنسی ایک بار پھر شدید دباؤ کا شکار ہو گئی۔ ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی 12 ہزار 50 ہزار ریال تک گر گئی۔

اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جنگ کے وقت سے  ایران کی معیشت شدید مسائل کا شکار ہے۔ ایکسپورٹس بہت زیادہ گر جانے کے سبب ڈا؛ر لی ایران میں آمد ضرورت سے بہت کم ہو گئی ہے اور ایرانی کرنسی ریال کے بدلے ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھتے برھتے ساڑھے بارہ لاکھ ریال تک پہنچ گئی۔ 

مارکیٹ کے ذرائع بتا رہے ہیں کہ تہران میں ایرانی ریال نے اوپن مارکیٹ میں اپنی تاریخ کی کم ترین قدر ریکارڈ کروائی۔

ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں ریال کی قیمت تقریباً 12 لاکھ 50 ہزار تک گر  جانے سے انویسٹرز خصوصاً امپورٹرز کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ملک میں امپورٹڈ سامان کی قیمتیں اب  غریبوں اور متوسط طبقہ کے بعد امیروں کی بھی بساط سے باہر نکلنے لگی ہیں۔ 

بعض ماہرین کے مطابق 2018 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی حکومت کے دوران  یران پر  دوبارہ سخت اقتصادی پابندیاں عائد ہو جانے کے بعد سے ریال  کی ویلیو مسلسل کم ہوتی رہی لیکن اب تو ریال کی بے وقعتی انتہا کو پہنچ گئی ہے کہ لوگ تھیلا بھر کر ریال لائین تو بدلے میں صرف ایک ڈالر ملتا ہے۔ لماہرین بتاتے ہیں کہ ایران پر بین الاقوامی  پابندیوں کے آغاز پر ایک ڈالر 55 ہزار ریال کمیں مل جاتا تھا۔ اسرائیل کے ساتھ ایران کی جنگ اور اس کے بعد امریکہ کے ایرانی ایٹمی تنصیبات پر بمباری کرنے کے بعد اب ایرانی کرنسی کی قدر عملاً ناگفتنی ہو گئی ہے۔ 

ایک اور رپورٹ کے مطابق ایرانی حکومت کی حالیہ اقتصادی لبرلائزیشن پالیسی اور  نجی ضرورت مندوں کی بڑھتی ضرورت کے زیر اثر مارکیٹ میں ڈالر کی بڑھتی ہوئی طلب نے ریال پر پڑنے والے دباؤ کو مزید شدید کر دیا ہے۔شہری روزمرہ ضروریات کے سامان اور اپنی بچت کے تحفظ کے لیے غیر ملکی کرنسی خرید رہے ہیں۔

حال ہی میں ایرانی حکومت نے ضروری سامان کے امپورٹرز کو  سرکاری بینکوں کی بجائےمارکیٹ سے ڈالر خریدنے کی اجازت دے دی۔ تاکہ ضروری اشیا کی درآمد جاری رہ سکے۔ اس فیصلے کے بعد ڈالر کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہوا اور ریال مزید کمزور ہو گیا۔

عالمی بینک  کی پیش گوئی ہے کہ ایران کی معیشت آئندہ سالوں میں مزید گراوٹ کا شکار ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر کرنسی بحران، مہنگائی اور پابندیاں  برقرار  رہیں۔ تو ایران کو مزید  گہری کساد بازاری، بلند مہنگائی اور بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامناہو گا۔