سٹی 42: امریکہ اور ایرانی میڈیا کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حتمی جنگ بندی پر غور وفکر کیلئے مذکرات 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہوں گے، جہاں دونوں ممالک حتمی جنگ بندی کے ایجنڈے پر بات چیت کرینگے۔
ایرانی سپریم سیکیورٹی کونسل کی جانب سے بھی تصدیق کی گئی ہے کہ پاکستان کے ذریعے دس نکاتی تجاویز امریکا کو ارسال کی گئی ہیں، جن کی بنیاد پر مذاکرات اسلام آباد میں ہوں گے۔ ان مذاکرات میں جنگ بندی کو مستقل شکل دینے پر غور کیا جائے گا۔
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکا کو ایران کی جانب سے دس نکاتی تجویز موصول ہو چکی ہے۔امریکی صدر نے کہا ہے کہ یہ تجاویز بامعنی مذاکرات کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں اور دونوں ممالک ایک طویل المدتی امن معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
امریکہ کے نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایرانی حکام سے بات چیت کے لیے تیاریاں کر رہی ہے۔ سی این این کی رپورٹ میں مذکرات کیلئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف پر مشتمل امریکی وفد کی نمائندگی کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق جے ڈی وینس اس وقت ہنگری کے دورے پر ہیں، تاہم اسلام آباد میں ہونے والی اہم ملاقات کے پیش نظر ان کے دورے کو مختصر کیا جا سکتا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ان مذاکرات میں پاکستانی نمائندے بھی ثالثی کردار ادا کریں گے۔
ایرانی سپریم سیکیورٹی کونسل نے موجودہ جنگ بندی کو اپنی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکراتی ایجنڈے میں اقتصادی پابندیوں کے خاتمے اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی جیسے اہم نکات شامل ہیں۔
ایران کی جانب سے اس پیش رفت کو بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ کہا جا رہا ہے کہ اس نے امریکی دباؤ کے باوجود اپنے دس نکاتی مؤقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا۔